آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران سے مبینہ روابط رکھنے والے دو بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ جہازرانی کے عالمی ڈیٹا کے مطابق یہ دونوں ٹینکرز اس وقت حساس سمندری علاقے میں موجود ہیں جہاں امریکا پہلے ہی سخت نگرانی اور پابندیاں نافذ کر چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خام تیل بردار جہاز ’یوری‘ رات کے وقت آبنائے ہرمز میں داخل ہوا اور بعد ازاں جزیرہ لارک کے مشرق میں رک گیا، جہاں یہ آج بھر موجود رہا۔ ٹریکنگ معلومات کے مطابق یہ جہاز کارگو سے بھرا ہوا ہے اور اس سے قبل ایران کی اہم تیل برآمدی بندرگاہ جزیرہ خارک کے قریب دیکھا گیا تھا، تاہم اس کی حتمی منزل ابھی واضح نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب کیمیکل ٹینکر ’ایوَن‘ آج صبح آبنائے ہرمز سے گزرا اور اب خلیج عمان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب کافی عرصے تک کھڑا رہا اور اب یہ بھی کارگو سے لدا ہوا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ان دونوں جہازوں پر پہلے ہی ایران سے تعلقات کے باعث پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ امریکا نے حالیہ دنوں میں خلیج عمان میں ایک بلاکیڈ لائن نافذ کی ہے، جس کے بعد متعدد جہازوں کو روکا جا چکا ہے، خاص طور پر وہ جہاز جو ایرانی بندرگاہوں سے آئے یا جن پر پابندیاں موجود تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے امریکا ان جہازوں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔
آبنائے ہرمز میں دو مشتبہ جہازوں پر امریکی نظر
