اسلام آباد میں معاشی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے پروگرام کے تحت مقررہ 17 میں سے 13 اہداف کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں، جس کے بعد مئی کے اوائل میں قسط کی منظوری متوقع ہے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے کئی اہم شرائط پوری کی جا چکی ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کو بہتر سطح پر برقرار رکھنا، مالیاتی نظم و ضبط اور دیگر بنیادی اہداف شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بنیادی بجٹ خسارہ مقررہ حد میں رکھا گیا جبکہ صوبائی ٹیکسوں کا 568 ارب روپے کا ہدف بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔
مزید برآں حکومت نے اپنی ضمانتوں کو 4542 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف بھی پورا کیا ہے اور اسٹیٹ بینک نے بھی حکومتی قرضے میں اضافہ نہیں کیا، جو پروگرام کی ایک اہم شرط تھی۔ ان اقدامات کو معاشی استحکام کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اب بھی دو اہم اہداف مکمل نہیں ہو سکے جبکہ مزید دو کے لیے درکار ڈیٹا آئی ایم ایف کو فراہم کرنا باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر ریٹیلرز سے 366 ارب روپے ٹیکس ہدف کی مکمل تفصیلات جمع نہیں کرا سکا، جبکہ نئے ٹیکس فائلرز کے حوالے سے بھی ہدف کا مکمل ڈیٹا پیش نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک 10 لاکھ نئے ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کا ہدف مقرر ہے جبکہ مارچ 2027 تک مزید ساڑھے سات لاکھ نئے ریٹرنز کا اضافہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید اہداف کے لیے جون 2026 تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔
آئی ایم ایف کی 1.2 ارب ڈالر قسط کی امید، بیشتر اہداف مکمل
