امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد امریکی فوج کے اسلحہ ذخائر میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران بڑی تعداد میں مہنگے اور جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جس کے باعث امریکا کو اپنے ذخائر میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے جنگ کے دوران تقریباً 1100 جے اے ایس ایس ایم ای آر کروز میزائل استعمال کیے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 11 لاکھ ڈالر ہے۔ اس وقت ان میزائلوں کا ذخیرہ تقریباً 1500 رہ گیا ہے، جو دفاعی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
اسی طرح امریکی فوج نے 1000 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل بھی استعمال کیے، جن کی فی میزائل قیمت تقریباً 36 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ امریکا سالانہ بنیادوں پر محدود تعداد میں ان کی خریداری کرتا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ کے دوران 1200 سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل بھی داغے گئے، جن کی قیمت فی میزائل تقریباً 40 لاکھ ڈالر ہے۔
مزید برآں 1000 سے زائد پریسیژن اسٹرائیک اور اے ٹی اے سی ایم ایس زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں امریکی اسلحہ ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی دو دنوں میں ہی تقریباً 5.6 ارب ڈالر کے ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر جنگ کی لاگت 28 سے 35 ارب ڈالر کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ خرچ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک ارب ڈالر بنتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 38 دن کی جنگ کے دوران 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ایک ہدف کو کئی بار نشانہ بنانے کے باعث استعمال ہونے والے اسلحے کی اصل مقدار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایران جنگ میں امریکی اسلحہ ذخائر کم، اربوں ڈالر خرچ
