بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے متنازع ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ یہ ریمارکس دراصل ایک قدامت پسند مبصر مائیکل سیویج کے ریڈیو شو سے لیے گئے تھے، جنہیں ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر شیئر کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق مائیکل سیویج نے اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ امریکا میں پیدا ہونے والا بچہ فوری طور پر شہریت حاصل کر لیتا ہے اور پھر اپنے خاندان کو چین، بھارت یا دیگر ممالک سے امریکا لے آتا ہے، جنہیں انہوں نے نامناسب انداز میں پیش کیا۔ اس بیان نے سفارتی سطح پر تنازع کھڑا کر دیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان ریمارکس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرے حقیقت سے دور اور لاعلمی پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات بھارت اور امریکا کے درمیان دیرینہ تعلقات کی عکاسی نہیں کرتے، جو باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر قائم ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں اور ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات ان تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مختلف شعبوں میں مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
دوسری جانب نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے بھی اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ بھارت کو ایک عظیم ملک سمجھتے ہیں اور بھارتی قیادت کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہیں۔
بھارت نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کر دیا، سخت ردعمل سامنے آگیا
