قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ،
بےشک اللہ ان مجاہدوں کو دوست رکھتا ہے ،جو اس کی راہ میں یوں صف بستہ ہو کر جنگ کرتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں
قرآن مکمل حق ہے ،اس کے الہامی کلام ہونے میں کوئی شک نہیں لہذا اس کی یہ آیت بھی سچ ثابت ہوئی جب جب کفر نے حق پر حملہ کیا تو جیت حق کی ہوئی ۔ مٔئی 2025 میں ہونے والا معرکہ حق وہ معرکہ وہ جنگ جب پاکستان کے ازلی اور بزدل دشمن جس نے آج تک پاکستان کے قیام کو دل سے تسلیم نہیں کیا اپنی بزدلانہ روایت برقرار رکھتے ہوئے رات کے اندھیرے میں چھپ کر حملہ کیا تو پاک فوج کا ہر جوان بنیان مرصوص بن کر فجر کے اُجالے میں دشمن پر قہر بن کر ٹوٹا اور پھر دنیا بھر نے انڈیا کے صرف رافیل طیارے کی نہیں بلکہ اس کی نام نہاد فوجی طاقت کے دعوی اور برتری کے غرور کو آسمان سے زمین پر گرتے دیکھنا بھارت کی دفاعی طاقت کا بھرم ریت کی دیوار ثابت ہوا ،دنیا بھر میں بھارتی حکومت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔وہ بھارت جو پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے قومی سلامتی کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا تھا ۔پاکستان کو فروعی ،فرقہ وارانہ علاقائی صوبائی اور سیاسی اختلافات میں الجھا کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا تھا ۔اس جنگ نے پوری قوم کو ایک کر دیا ۔خیبر سے کراچی تک ہر پاکستانی کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ۔ہم بنیان مرصوص ہیں ۔اس معرکہ حق میں صرف پاک فوج ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی دل یک زبان ہو کر دشمن کے سامنے بنیان مرصوص بن کر کھڈی ہو گئی ۔اس وقت قوم کو نہ تو یہ یاد تھا کہ اس کا تعلق کس مذہب فرقے علاقے سیاسی جماعت صوبے یا زبان سے ہے ۔یاد تھا تو صرف یہ کہ ہم صرف ایک قوم ہیں اور ہماری پہچان پاکستان ہے۔اور انڈیا نے ہمیں تر نوالہ اور اپنی زیر قبضہ ریاست سمجھتے ہوئے ہم پر حملہ کرنے کی جرات کی ہے اس کے لئے اسے ایسا سبق سکھایا جائے کہ آئندہ بھارت کبھی بھی ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہ کرے ۔اسے یہ معلوم ہو جائے کہ ہم ایک آزاد ریاست اور خودمختار قوم ہیں ۔۔۔ہم بنیان مرصوص ہیں
جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جاتا ہے ہم امن کے داعی اور علمبردار ہیں۔اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کا قابل ذکر کردار اور قربانیاں اس کی مثال ہیں ۔لیکن اگر ہم پر جارحیت مسلط کی جائے تو ہم بنیان مرصوص ہیں ۔ہم مومن ہیں جو موت سے نہیں ڈرتے دوستوں کے لئے جان دیتے ہیں اس دنیا میں اپنے سبز ہلالی پرچم کو اپنے پر امن اقدامات کے ذریعے سربلند رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اپنی سرزمین کا تحفظ کرنا جانتے ہیں جو ہمارا اولین فرض ہے ۔ہم اپنی سر زمین نہ تو دوسرے ممالک کی سلامتی کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور نہ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ کسی اور ملک کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو ہم حالت امن میں شبنم اور جنگ مسلط ہونے پر آگ ہیں ہم بنیان مرصوص ہیں ۔اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
اس تاریخی معرکہ میں تینوں مسلح افواج نے اپنی دفاعی صلاحیت اور پروفیشنل تربیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔عالمی میڈیا پاکستان کی بہترین دفاعی صلاحیت اور جنگی حکمت عملی کے گن گاتا رہا جس نے چند گھنٹوں میں جنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے انڈیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔قوم کا ہر فرد افواج کے شانہ بشانہ اپنے اپنے محاذ پر لڑی رہے تھے ۔نوجوان ہیکرز نے بھارت کی حساس دفاعی معلومات اور تنصیبات کے سسٹم کو پیک کر کے سائبر سیکیورٹی اور آی ٹی کی فیلڈ میں اپنی دھاک بٹھاتے ہوئے روایتی جنگ کے اصولوں اور طریقوں کو بدل دیا ۔اس جنگ کو فوج اور عوام نے روایتی جوش اور جذبے سے لڑا لیکن جنگ میں غیر روایتی طریقوں کو متعارف کروا کے روایتی جنگ کی تاریخ کو بدلتے ہوئے دفاعی ماہرین کو داد دینے پر مجبور کر دیا ۔دنیا بھر کی حکومتیں اپنے اپنے ملکوں میں ہونے والی غیر روایتی سرگرمیوں اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے پاک فوج کی تربیت اور مہارت سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے رابطے کیا اس معرکہ حق نے واقعی حق کو فتح یاب کیا۔پاک فوج اور عوام نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و برکت سے دشمن کو شکست فاش دی ۔انڈیا اب کسی بھی معرکہ یا ایڈونچر سے پہلے سو بار سوچے گا اور اس معرکہ کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ قوم کسی بھی مشکل گھڑی میں اندرونی اختلافات کو بھلا کر بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ہو جاتی ہے۔ جس قوم کا نصب العین ایمان اتحاد اور یقین محکم ہو اسے شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔دشمن ہمیں کبھی بھی الگ نہیں کر سکتا اور نہ ہی باطل حق پر غالب آ سکتا ہے ۔کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ہم خالد کی یلغار ہیں اور طارق کی تلوار ہیں ۔ہم حیدر کرار ہیں ۔ہمیں کوی شکست نہیں دے سکتا کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بنیان مرصوص ہیں
