اسلامی جمہوریہ پاکستان… ایک ایسا وطن جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں سب سے قیمتی نعمت وطن سے محبت ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہر آزمائش میں اس قوم کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔
جب بھی وطنِ عزیز دشمن کی نظرِ بد کا نشانہ بنا، تاریخ نے یہ منظر بارہا دیکھا کہ قوم اور فوج ایک جان، دو قالب بن گئے۔ شہداء کے لہو سے لکھی گئی داستانیں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ سرزمین محض مٹی نہیں ,یہ ایک سیسہ پلائی دیوار ہے، جسے کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔
یہ وطن صرف بیرونی دشمنوں کا ہی نشانہ نہیں بنا، بلکہ اندرونی سازشوں نے بھی اسے کمزور کرنے کی کوشش کی۔ ایسے میں سوال یہ تھا .کیا ہم بکھر جائیں گے… یا پھر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گے؟ جواب تاریخ کے اوراق پر بھی لکھا ہے اور حال کے منظر نامہ پر بھی
جنوبی وزیرستان کی وادیوں میں جب بے گناہ شہریوں کا خون بہایا گیا، تو خاموشی نہیں چھائی بلکہ آپریشن المیزان کی صورت میں انصاف کا ترازو حرکت میں آیا۔ ظالم کے خلاف مظلوم کا پلڑا بھاری کیا گیا۔
پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی…
سوات اور مالاکنڈ کی حسین وادیوں میں نام نہاد حق کے علمبرداروں نے سر اٹھایا۔ خوف کے سائے گہرے ہوئے، مگر اسی لمحے راہِ حق پر چلنے والے میدان میں اترے۔اور پھر آپریشن راہِ راست نے نہ صرف دہشت کی جڑیں کاٹیں بلکہ زندگی کو پھر سے مسکرانے کا موقع دیا۔
دشمن، شکست پر شکست کھا کر بوکھلا چکا تھا…2008 میں باجوڑ اور جنوبی وزیرستان میں ایک بار پھر امن کا خون بہایا گیا۔ مگر اس بار جواب پہلے سے زیادہ سخت تھا۔آپریشن شیر دل نے دہشت گردی کے عفریت کو چیر کر رکھ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ
"ہم جھکتے نہیں ہم بنتے ہیں بنیانِ مرصوص!”
یہ جنگ مختصر نہ تھی
کبھی ملاکنڈ، کبھی وزیرستان کہیں مختصر معرکے، تو کہیں طویل جدوجہد۔
آپریشن ضربِ عضب (2014-2017) ایک ایسا باب ہے جس نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا۔
یہ صرف ایک آپریشن نہیں تھا ۔یہ ایک عزم تھا، ایک اعلان تھا کہ اب اس سرزمین پر خوف کا راج ختم ہوگا۔ مگر قربانیاں بھی کم نہ تھیں…
ہر کامیابی کے پیچھے کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی، کسی بچے کا باپ تھا،جو وطن پر قربان ہو گیا۔ مگر ان قربانیوں نے ایک حقیقت کو مزید واضح کیا:
ہم واقعی بنیانِ مرصوص ہیں۔
پھر فیصلہ ہوا کہ…
اب صرف جنگ نہیں، مکمل رد ہوگا کیونکہ
جب طے ہوا کہ ملک میں حد فساد ہے
تو اسکا علاج فوج کا رد الفساد ہے
یوں آپریشن ردالفساد (2017) کا آغاز ہوا۔یہ ملک بھر میں دہشت گردی کے بچے کھچے اثرات کو ختم کرنے کا عزم تھا۔ ایک ایسا مرحلہ جہاں امن کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنا مقصد تھا۔
وقت آگے بڑھا… خطرات نے بھی نئی شکلیں اختیار کیں۔
2024 میں بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ہونے والا آپریشن مرگ بر سرمچار اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے اندر بلکہ اپنی سرحدوں سے باہر موجود خطرات پر بھی نظر رکھتا ہے۔
اور پھر…
جب بھارت نے جارحیت کی کوشش کی، تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ صرف ایک فوج سے نہیں، بلکہ ایک قوم کی قوت ایمانی ٹکرا رہا ہے۔ ایسی قوم… جو ہر محاذ پر اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں تاریخ نے مہر ثبت کی:ہم صرف دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم ثابت کرتے ہیں۔
ہم ہیں بنیانِ مرصوص۔
بعد ازاں عالمی سطح پر تیز رفتار واقعات کا تانتا بندھا۔ افغانستان کے بلا اشتعال حملے بڑھے تو پاکستانی فوج نے بلا تامل افغانستان کو فوری جواب دیا۔ جس زمین پر سوویت یونین ٹوٹی امریکہ ناکام رہا وہاں جب دشمن کا سامنا بنیان المرصوص سے ہوا تو چند دن میں سفید جھنڈے لہرا گئے۔ اسی دوران ایران امریکہ جنگ نے مشرق وسطی میں حالات گھمبیر کر دیے تو دنیا کو ایک اور روپ نظر آیا۔ ہم صرف جنگ کے میدان میں ہی مضبوط نہیں بلکہ ثالثی کا میدان سجانے کی بھی ہمت رکھتے ہیں اور فریقین کی حفاظت کرنا جانتے ہیں
عالمی سطح پر اسے حد سمجھا گیا لیکن بنیان مرصوص کی حد اسے سے کہیں آگے تھی۔ یہ اس بنی کے امتی و آنچه در دعا طلب گردید ہیں جس کی ابتدا پر جبرائیل کی انتہا ہوئی تھی ۔ سیسہ پلائی دیوار نے ابھی مزید مضبوطی دکھانی تھی۔ دنیا میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ کسی ملک کا آرمی چیف ایکٹو وار زون میں اس شان سے گیا ہو کہ اس ملک کے روپوش و منتشر لوگ بھی سر عام باہر نکل سکیں۔ کسی بھی جنگی میدان میں ایسے جانے کے لیے لوہے کے اعصاب درکار ہوتے ہیں۔ پاکستانی فوج اور قوم نے قدم قدم پر صرف ثابت نہیں کیا بلکہ چیلنج کیا کہ اللہ کے کرم سے ہم بنیان مرصوص ہیں
