"ہم بنیان المرصوص ہیں” ایک بامعنی اور ولولہ انگیز جملہ ہے جو قرآن مجید کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 سے لیا گیا ہے۔ترجمہ:
بے شک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
اس کا مطلب ہے "سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ دو عربی الفاظ پر مشتمل ہے: "بنیان” یعنی دیوار، اور "مرصوص” یعنی سیسہ سے مضبوط کی گئی۔یہ محض ایک لفظی ترکیب نہیں بلکہ اتحاد، استقامت اور ناقابلِ تسخیر طاقت کی علامت ہے۔
اپریل 2025 میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملہ پیش آیا، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا، مگر کشیدگی میں کمی نہ آئی۔ بالآخر 7 مئی کی رات بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی مساجد کو نقصان پہنچا اور معصوم شہری شہید ہوئے، جن میں 15 بچے اور 7 خواتین شامل تھیں۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کیا گیا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔
اس سانحے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، مگر اس کے ساتھ ساتھ عزم اور حوصلہ بھی بلند ہوا۔ پاک فوج اور عوام نے متحد ہو کر دشمن کو جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ صرف فوج کی جنگ نہیں تھی بلکہ ہر شہری نے اپنے اپنے میدان میں کردار ادا کیا۔ میڈیا، نوجوان اور سائبر ماہرین نے معلوماتی محاذ پر بھرپور حصہ لیا۔
ابتدائی طور پر پاک فوج کی خاموشی کو دشمن نے کمزوری سمجھا، مگر درحقیقت یہ ایک حکمت عملی تھی۔ 10 مئی کی صبح فجر کے بعد پاکستان نے "آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت بھرپور جوابی کارروائی کی۔ یہ حملہ کھلے عام اور پوری تیاری کے ساتھ کیا گیا، جس سے دنیا کو واضح پیغام ملا کہ پاکستان اپنے دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گا۔
اس آپریشن کے دوران پاکستان نے بھارت کے کئی طیارے مار گرائے اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ پاک فضائیہ، بری اور بحری افواج نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی غیر معمولی جذبے کا مظاہرہ کیا۔ حتیٰ کہ دشمن کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کو ناکام بنانے میں بھی شہریوں نے فوج کا ساتھ دیا۔
یہ آپریشن صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ قومی اتحاد اور ایمان کی ایک زندہ مثال بن گیا۔ 12 مئی 2025 کو اس کامیابی کو "معرکہ حق” کے طور پر منایا گیا، جبکہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان نے اس معرکے میں برتری حاصل کی۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ "بنیان المرصوص” صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، متحد اور ناقابلِ شکست قوم ہے۔ ایک ایسی قوم جو اپنے ایمان، اصولوں اور حب الوطنی کے سیسہ سے جڑی ہوئی ہے، اور جسے کوئی بھی دشمن اپنے ناپاک عزائم سے متزلزل نہیں کر سکتا۔
پاکستانی وہ قوم ہیں جو بے چینی، افراتفری اور جلدبازی میں بھی وہ کام کر جاتی ہے جو کسی نے سوچا بھی نہ ہو۔ جہاں یہ امن، وطن اور قوم سے محبت کے معاملے میں ہر خوف کے ماحول میں بھی خالصتاً پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔
جہاں "جنگ” کا نام سن کر لوگ کانپ اٹھتے ہیں، وہیں پاکستانی قوم ناممکن کو ممکن بنا کر دشمنوں کو ششدر کر دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سینے میں آگ لے کر نکلنا جانتے ہیں۔
یہ اپنے شہیدوں کے لیے افسردہ ہونے کے بجائے ان کا نام لے کر ایسی آگ بھڑکاتے ہیں جو شعلوں میں بدل جاتی ہے۔ یہ اپنے گھروں سے نکل کر بے تاب ہو رہے ہیں۔
پوری دنیا دیکھے گی کہ اس ارضِ پاک ایک ایسا ملک ہے جس کے باشندے لہو بہتے دیکھ کر بھی "اف” نہیں کرتے۔ بلکہ وہ دشمن کے سامنے کانپنے کے بجائے مل کر لڑنے کو تیار ہیں۔
اپنی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے ان کی پکار پر پوری قوم کی فوج کھڑی ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ ہے۔ ہمارے ننھے اور معصوم بچے بھی گھروں میں کھلونے کے ٹینک اور میزائل بنانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ ہمارے بزرگ بھی جان دینے کو تیار ہیں۔
مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اس بھائی چارے کو لے کر ہم سب اس طرح دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہوتے ہیں کہ دشمن کی نسلیں کانپ اُٹھیں۔
بھائی چارے کی یہ دیوار حب الوطنی، محبت اور انسانیت کے سیمنٹ سے مزید مضبوط کر دی ہے۔ ہم نے اس جنگ کے موقع پر واقعی دشمن کو "بنیانِ مرصوص” بن کر دکھا دیا ہے۔
ہماری یہ دیوار کبھی ٹوٹ نہیں سکتی اور دشمن ہمیشہ منہ کی کھائے گا۔ کیونکہ ہماری یہ دیوار اینٹوں سے نہیں بلکہ خالقِ کائنات کے عشق سے بنی ہے۔
ہم اپنی طاقتوں سے زیادہ اپنے رب اور ایمان پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری طاقت آپس کی محبت اور بھائی چارہ ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو جنگ میں مرنے نہیں، بلکہ اگر جنگ ہو جائے تو جیتنے کے لیے نکلتے ہیں۔
7 مئی سے 10 مئی تک کے اس واقعے نے دنیا کو بتا دیا کہ ہم قوم "بنیانِ مرصوص” ہے، اور ہمیشہ رہے گی۔
