Baaghi TV

ہم بنیان المرصوص ہیں،تحریر:دانیال حسن چغتائی

قرآنِ کریم کی سورہ الصف کی چوتھی آیت میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
’’بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں (ایسے) صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیانٌ مرصوص) ہوں۔‘‘
بنیان المرصوص مکمل ضابطہ حیات، عسکری حکمتِ عملی اور ایمانی قوت کا نچوڑ ہے۔ جب اینٹ سے اینٹ جڑتی ہے اور درمیان میں اخلاص کا گارا لگ جاتا ہے تو عمارت کسی بھی طوفان کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتی۔ آج کے پرفتن دور میں، معرکہ حق و باطل اپنے پورے جوبن پر ہے، امتِ مسلمہ کے لیے یہ تصور ڈھال بھی ہے اور تلوار بھی ہے ۔

مسلمان بہت تیزی سے زوال کا شکار ہو چکے ہیں اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایمانی نصاب قران مجید کو چھوڑ دیا ہے اور پڑھنے تک محدود کر دیا ہے۔ جب ہم اسے سمجھ کر پڑھیں گے اور زندگی میں نافذ کریں گے تو ہی یہ حالات بدل سکیں گے ۔

تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے اسٹیج پر خیر اور شر کی جنگ روزِ اول سے جاری ہے۔ ہابیل اور قابیل سے شروع ہونے والا یہ سفر، نمرود و ابراہیمؑ، فرعون و موسیٰؑ اور ابوجہل و حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتا ہوا آج ہم تک پہنچا ہے۔

ہمارے بزدل دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کر کے ہماری نوجوان نسل کو کہ دکھا دیا کہ تاریخ میں 1965 کے جو واقعات لکھے ہوئے ہیں وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہیں اور پھر ہماری افواج نے بھی حکمت ، بصیرت و جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے دانت جس طرح کھٹے کیے، وہ تادیر اس کو یاد رکھے گا اور دوبارہ امید ہے کہ ایسی حماقت سے باز رہے گا۔ ہمارے سپہ سالار نے صبح کی نماز کے ادائیگی کے بعد نعرہ لگاتے ہوئے جس طرح دشمن کو جواب دیا وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو چکا ہے اور ساتھ ہی دشمن کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
نیز یہ کہ مسلمان دن کی روشنی میں لڑتا ہے۔ بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی میں حملہ نہیں کرتا۔

حق کا راستہ ہمیشہ دشوار گزار رہا ہے، لیکن اس کی جیت کا راز مادی وسائل میں نہیں بلکہ اس بنیان المرصوص والی کیفیت میں رہا ہے جہاں افراد اپنی انفرادی حیثیت کو ختم کر کے مقصدِ عظیم کے لیے فنا ہو جاتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم بنیان المرصوص ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنی انا، مسلک، نسل اور زبان کے بتوں کو پاش پاش کر کے حق کی بنیاد پر ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جس میں کوئی دراڑ ممکن نہیں اور یہی کچھ ہم نے پچھلے برس انہی دنوں میں دیکھا ۔

کسی بھی عمارت کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے اجزا ایک دوسرے کو کتنا سہارا دیتے ہیں۔ دشمن ہمیشہ پہلا وار دیوار کی دراڑوں پر کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے بنیان المرصوص کی صفت کو چھوڑا، وہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ اندلس اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جب بھائی بھائی کے خلاف غیروں سے مدد لینے لگا۔ سقوطِ بغداد میں علمی تکبر اور داخلی انتشار نے ہلاکو خان کے لیے راستے ہموار کیے۔

آج کا معرکہ ٹینکوں اور طیاروں کا نہیں بلکہ نظریاتی یلغار کا ہے۔ دشمن ہمیں خانوں میں بانٹ کر کمزور کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں بنیان المرصوص ہونا یہ ہے کہ ایک مسلمان کی تکلیف دوسرے کا درد بن جائے۔ اگر جسم کے ایک حصے میں کانٹا چبھے تو تڑپ پوری آنکھ میں ہونی چاہیے۔
ہم بنیان المرصوص اس وقت بنتے ہیں جب ہمارا کردار سچائی کی بنیاد پر استوار ہو۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار تب بنتی ہے جب سیسہ پگھل کر خلا کو بھر دیتا ہے۔

ہر عمل کی بنیاد اللہ کی رضا ہو۔ صف بستہ ہونا سکھاتا ہے کہ لیڈر کے ایک اشارے پر پوری سپاہ حرکت میں آئے۔ اپنی ضرورت پر دوسرے بھائی کی ضرورت کو ترجیح دی جائے ۔
آج کے معرکہ حق میں ہماری سرحدیں معیشت، تعلیم، میڈیا اور ہماری نوجوان نسل یہ سب محاذ ہیں۔ اگر ہمارا تاجر دیانتدار ہے، طالب علم محنتی ہے اور سپاہی نڈر ہے تو ہم بحیثیت قوم ایسی دیوار ہیں جسے ابلیسی قوتیں کبھی گرا نہیں سکتیں۔

موجودہ عالمی حالات میں، جہاں فلسطین سے لے کر کشمیر تک اور دنیا کے ہر گوشے میں حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہاں بنیان المرصوص کا نعرہ نئی امید بن کر ابھرتا ہے۔ یہ نعرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم تنہا نہیں ہیں، ہم جسدِ واحد ہیں۔
ہمارا قبلہ ایک ہے، ہماری کتاب ایک ہے اور ہمارا مقصدِ حیات ایک ہے۔ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی بنیادیں ریت کی طرح ہوتی ہیں۔ حق کے پیچھے الٰہی نصرت ہوتی ہے۔ جب ایمان والے ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو ابابیلوں کے لشکر اترتے ہیں اور کنکر بھی ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں۔

معرکہ حق میں جیت بنیان المرصوص بن کر دکھانے سے ملتی ہے۔ ہمیں اپنے اندر کی دراڑیں بھرنی ہوں گی۔ ہمیں فرقہ واریت، لسانیت اور صوبائیت کے زہر کو نکال کر محبت اور یگانگت کا امرت پینا ہوگا۔
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

ہم وہ اینٹ بنیں گے جو گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیتی ہے، نہ کہ وہ جو دیوار کے گرنے کا سبب بنتی ہے۔ ہم وہ سیسہ بنیں گے جو صفوں کے درمیان خلا کو ختم کر دیتا ہے۔ کیونکہ جب ہم ایک ہو جاتے ہیں تو ہم وہ دو دھاری تلوار بن جاتے ہیں جو باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ ہم بنیان المرصوص ہیں۔ یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہماری طاقت ہے اور یہی ہماری فتح کی ضمانت ہے۔

More posts