پاکستان سمیت دنیا بھر میں یکم مئی کو “یومِ مزدور” بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ مگر ان سب رنگینیوں کے بیچ ایک حقیقت بڑی خاموشی سے کھڑی رہتی ہے: وہ مزدور جس کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، وہ خود اس دن بھی مزدوری کر رہا ہوتا ہے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ جس کے حق میں آواز بلند کی جاتی ہے، وہی شخص اس آواز کو سننے سے محروم رہتا ہے۔ اینٹیں اٹھاتا ہوا مزدور، سڑک پر پسینہ بہاتا محنت کش، کارخانوں میں مشینوں کے ساتھ جُھلا ہوا ہاتھ ، یہ سب آج بھی اپنی روزی کی تلاش میں ہوتے ہیں، چاہے کیلنڈر پر یکم مئی ہی کیوں نہ درج ہو،ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مزدور کی اجرت کا ذکر تو ہوتا ہے، مگر اس کے زخموں کا مداوا نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ مزدور کی تنخواہ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اکثر کاغذوں کی حد تک محدود رہتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی مزدور آج بھی اتنی اجرت سے محروم ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پورا کر پاتے ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ مزدور ڈے بھی ایک “تقریب” بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں چند بااثر افراد تقریریں کرتے ہیں، کیمرے چلتے ہیں، تالیاں بجتی ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر مزدور کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ نہ اس کے حالات بدلتے ہیں، نہ اس کے بچوں کی تقدیر،اصل سوال یہ ہے کہ آخر کون ان کے حق میں آواز اٹھائے گا؟ کون ان کے پسینے کا اصل معاوضہ دلائے گا؟ اور کب تک مزدور صرف نعروں اور پوسٹروں کی زینت بنا رہے گا؟یہ وقت ہے کہ ہم مزدور ڈے کو صرف منانے کے بجائے سمجھیں۔ مزدور کو ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔ اسے تقریر نہیں، حق چاہیے۔ جب تک اس کے ہاتھ کی محنت کو اس کا پورا حق نہیں ملتا، تب تک ہر یومِ مزدور ایک ادھورا دن ہی رہے گا۔
مزدور وہ خاموش طاقت ہے جس پر معیشت کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر یہ ہاتھ رک جائیں تو دنیا کا پہیہ بھی رک جائے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو صرف یاد رکھنا چاہتے ہیں یا اسے اس کا اصل مقام بھی دینا چاہتے ہیں۔
