لاہور کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی پراسرار ہلاکتوں کے کیس کا معمہ حل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پولیس نے بتایا ہے کہ فرانزک شواہد کے مطابق خاتون نے اپنے بچوں کو زہر دینے کے بعد خود بھی خودکشی کرلی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ فرانزک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون ذہنی مسائل کا شکار تھی اور مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر خودکشی کے مختلف طریقے تلاش کرتی رہتی تھی۔ ان کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ امریکا سے لاہور آئی تھی۔پولیس کے مطابق 17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیئم سائنائیڈ ملا کر پہلے اپنے تین بچوں کو کھلائی اور بعد ازاں خود بھی وہی آئس کریم کھالی۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ خاتون نے اپنے شوہر کو بھی زہریلی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ محفوظ رہے۔
ذیشان رضا نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون نے زہریلا کیمیکل اپنی ایک دوست کے گھر پارسل کے ذریعے منگوایا تھا۔ پولیس نے شوہر کا پولی گراف ٹیسٹ بھی کیا اور مکمل تفتیش کے بعد اسے بے گناہ قرار دیا۔پولیس نے کیس میں مزید دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں آن لائن کیمیکل فروخت کرنے والا دکاندار اور کیمیکل پہنچانے والا رائیڈر شامل ہیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق کیمیکل شاپ کا مالک غیر قانونی طور پر آن لائن کیمیکل فروخت کر رہا تھا اور اس نے پوٹاشیئم سائنائیڈ فراہم کرنے کے عوض ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے وصول کیے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد کی بنیاد پر چالان تیار کیا جا رہا ہے اور پراسیکیوشن کے تعاون سے انہیں قانون کے مطابق سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔
