رحیم یار خان میں 18 سالہ طالب علم کے ساتھ مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ایک نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ نوجوان کو مبینہ طور پر سالگرہ کی تقریب کا بہانہ بنا کر ایک رہائشی عمارت میں بلایا گیا، جہاں اسے نشہ آور چیز پلائے جانے کا الزام ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق نشہ آور شے پلانے کے بعد تین سے چار افراد نے مبینہ طور پر باری باری نوجوان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد متاثرہ طالب علم کو نیم مردہ حالت میں بائی پاس روڈ کے کنارے پھینک دیا گیا۔ راہگیروں نے نوجوان کو دیکھ کر فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جس کے بعد امدادی ٹیم نے اسے اسپتال منتقل کیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔
متاثرہ نوجوان کی درخواست پر تھانہ سٹی سی ڈویژن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں جبکہ متاثرہ نوجوان کا میڈیکل معائنہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے، جس کی رپورٹ تفتیش کا حصہ بنائی جائے گی۔
پولیس نے مقدمے میں نامزد ملزم حماد اکرم ولد اکرم مسیح، سکنہ حبیب کالونی، کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد تین دیگر ملزمان نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر رکھی ہے، جبکہ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔
متاثرہ نوجوان کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان نے زیادتی کے بعد ان کے بیٹے کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو کمرہ خون سے آلود تھا، جس سے واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور تمام دستیاب شواہد، فرانزک رپورٹ اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث ہر شخص کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
رحیم یار خان: 18 سالہ طالب علم سے مبینہ اجتماعی زیادتی، ایک ملزم گرفتار
