سندھ کے ضلع مٹیاری میں وہاب شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب یوسف والا کول ہاپر ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے باعث 17 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور اپ و ڈاؤن دونوں ریلوے ٹریک مکمل طور پر بند ہو گئے۔ حادثے کے بعد ملک کے مختلف شہروں کے درمیان ریلوے ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ حکام نے ٹرینوں کی آمد و رفت تقریباً 24 گھنٹوں تک معطل رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ڈی سی او ریلویز کراچی کے مطابق حادثے کے فوری بعد امدادی اور تکنیکی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر روانہ کر دیا گیا، جہاں بوگیوں کو ہٹانے اور متاثرہ ٹریک کی بحالی کا کام جاری ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ٹریک بند ہونے کے باعث متعدد مسافر ٹرینوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے اور بحالی کے کام میں وقت لگ سکتا ہے۔
حادثے کے بعد کراچی سے لاہور جانے والی قراقرم ایکسپریس کو حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا، جبکہ علامہ اقبال ایکسپریس کو کوٹری اسٹیشن پر روک لیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان ایکسپریس کو لانڈھی اسٹیشن، تیزگام ایکسپریس کو ڈرگ روڈ اسٹیشن، جبکہ ملت ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کو کراچی کینٹ اسٹیشن پر روک دیا گیا ہے۔
ریلوے انتظامیہ کے مطابق متاثرہ ٹریک کی مرمت مکمل ہونے تک مزید ٹرینوں کے شیڈول میں بھی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی متعلقہ ٹرین کی تازہ صورتحال معلوم کر لیں تاکہ غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔
ترجمان پاکستان ریلویز کراچی ڈویژن نے بتایا کہ کراچی ڈویژن کی حدود میں متاثر ہونے والے تمام مسافروں کو ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے ریلوے اسٹیشنوں پر عملہ موجود ہے اور انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
تاحال حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم ریلوے حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ریلوے ٹریفک کو جلد از جلد معمول پر لایا جائے۔
مٹیاری ٹرین حادثہ، 17 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، ریلوے ٹریک 24 گھنٹے بند رہنے کا امکان
