سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے بحری دفاعی اتحاد قائم کر لیا۔
سعودی خبرایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے 13 دیگر ممالک کے ساتھ بحری دفاعی اتحاد قائم کیا ہے،سعوی وزارت دفاع کے مطابق مجوزہ بحری دفاعی اتحاد سے متعلق اجلاس میں پاکستان سمیت 43 ممالک اور یورپی یونین وفد نے شرکت کی، اجلاس میں سعودی عرب کے مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کا بانی اور سربراہ ہونے اور مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کا ہیڈکورٹر سعودی عرب میں ہونے پر تبادلہ خیال ہوا،مجوزہ اتحاد باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں دفاعی تعاون کو فروغ دے گا،سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق پاکستان، ترکیہ، مصر، سوڈان سمیت 14 ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں مجوزہ کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کی حمایت میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے پر سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، اردن، یمن، بنگلا دیش، نائیجیریا اور صومالیہ نے بھی دستخط کیے، جبکہ اس میں اتحاد کے قیام سے متعلق پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا،اعلامیے میں کہا گیا کہ بعض دیگر ممالک نے بھی اتحاد کی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم وہ باضابطہ شمولیت کے لیے اپنے داخلی قانونی مراحل مکمل کر رہے ہیں، جبکہ مزید ممالک کے لیے اتحاد کے دروازے کھلے رہیں گے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔،20 جولائی کو حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سعودی آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ریاض کو آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اپنی تیل برآمدات کا رخ بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی جانب موڑنا پڑا۔
