Baaghi TV

بھارتی دلہنیں عالمی فیشن انڈسٹری کی نئی طاقت

نئی دہلی: بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی شادیوں کی صنعت نے نہ صرف ملکی فیشن انڈسٹری کو مضبوط مالی بنیاد فراہم کی ہے بلکہ بھارتی ڈیزائنرز کو عالمی فیشن کے نمایاں ترین پلیٹ فارمز تک بھی پہنچا دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب بھارت کو صرف عالمی برانڈز کے لیے کڑھائی اور ملبوسات تیار کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا، مگر اب بھارتی ڈیزائنرز پیرس، نیویارک، کانز فلم فیسٹیول اور دیگر بین الاقوامی تقریبات میں اپنی تخلیقات کے ذریعے منفرد شناخت بنا رہے ہیں۔

مشہور بھارتی فیشن ڈیزائنر راہول مشرا پیرس ہاؤٹ کوچر ویک میں مستقل شرکت کرتے ہیں، جبکہ معروف ڈیزائنر منیش ملہوترا نے حال ہی میں پیرس کوچر ویک میں پہلی بار اپنی کلیکشن پیش کی، جہاں عالمی فیشن کی معروف شخصیت اینا ونٹور بھی موجود تھیں۔ اسی طرح گورو گپتا کے ملبوسات گرامیز اور کانز فلم فیسٹیول جیسے بڑے عالمی ایونٹس میں مشہور شخصیات زیب تن کرتی ہیں، جبکہ دلہنوں کے پسندیدہ ڈیزائنر سبیاساچی رواں سال ستمبر میں نیویارک فیشن ویک میں اپنی کلیکشن پیش کریں گے۔منیش ملہوترا کے مطابق عالمی سطح پر بھارتی دستکاری کو ملنے والی پذیرائی سے نہ صرف برانڈز کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے بلکہ بھارتی صارفین میں بھی فخر اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی کامیابیاں اہم ہیں، تاہم ان کے کاروبار کی اصل بنیاد اب بھی دلہنوں کے لیے تیار کیے جانے والے خصوصی ملبوسات ہیں، جن سے حاصل ہونے والی آمدنی کاریگروں، ورکشاپس اور روایتی دستکاری کے تحفظ پر خرچ کی جاتی ہے۔

اسی وجہ سے انڈیا کوچر ویک 2026 کو بھارتی فیشن انڈسٹری کا اہم ترین ایونٹ سمجھا جاتا ہے، جہاں ہر سال ایسے رجحانات متعارف کرائے جاتے ہیں جو اکتوبر سے شروع ہونے والے شادیوں کے سیزن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سال یہ تقریب سیاسی احتجاجوں کے باعث نسبتاً سادہ ماحول میں منعقد ہوئی اور بالی ووڈ ستاروں کی شرکت محدود رہی، تاہم ڈیزائنرز کی شاندار کلیکشنز نے فیشن شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ڈیزائنر مسابا گپتا نے پہلی مرتبہ انڈیا کوچر ویک میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ دلہنوں کے ملبوسات سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کے برانڈ کے مستقبل، نئے منصوبوں اور تخلیقی خوابوں کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق 2018 کے بعد سے ان کے کاروبار کا تقریباً 80 فیصد حصہ شادیوں اور تقریبات کے لباس سے وابستہ ہے، اس لیے برانڈ کی طویل مدتی کامیابی کے لیے اسی شعبے پر توجہ دینا ضروری ہے۔

امریکی سرمایہ کاری کمپنی جیفریز کے مطابق بھارت کی شادیوں کی صنعت کا حجم 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو دنیا میں چین کے بعد دوسرا بڑا ویڈنگ مارکیٹ تصور کیا جاتا ہے۔ بھارتی خاندان شادیوں پر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، جبکہ جیولری اور ڈیزائنر ملبوسات اس اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہوتے ہیں۔معروف ڈیزائنر ترون تہلیانی کا کہنا ہے کہ بھارت میں شادی ایک ثقافتی روایت ہے، جہاں کئی روز تک جاری رہنے والی تقریبات میں مختلف لباس درکار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں بھارتیوں کی معاشی خوشحالی اور عالمی طرزِ زندگی سے متاثر ہونے کے باعث شادیوں کا انداز مکمل طور پر بدل چکا ہے، اور اب صرف ارب پتی خاندان ہی نہیں بلکہ خوشحال متوسط طبقہ بھی شادیوں پر بڑے پیمانے پر خرچ کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب شادیوں سے قبل خصوصی تقریبات، تھیم پارٹیوں اور ایونٹس کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف دلہا اور دلہن بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور مہمان بھی ہر تقریب کے لیے الگ الگ ملبوسات خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی لگژری برانڈز گچی، جمی چو اور بلغاری بھی بھارتی تہواروں اور شادیوں کے سیزن کے لیے خصوصی کلیکشنز متعارف کرا رہے ہیں تاکہ بھارت کی تیزی سے بڑھتی لگژری مارکیٹ سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھارتی ڈیزائنرز کی کامیابی میں بیرونِ ملک مقیم بھارتی برادری نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جو اپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھنے کے لیے روایتی مگر جدید انداز کے بھارتی ملبوسات خریدنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی رجحان نے بھارتی فیشن کو ایک مقامی صنعت سے نکال کر عالمی لگژری مارکیٹ کا نمایاں حصہ بنا دیا ہے۔

More posts