توہین آمیز ناول لکھنے والے ملعون سلمان رشدی پر 2022 میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی وفاقی عدالت کی جیوری نے ملزم ہادی مطر کو دہشت گردی سمیت تمام وفاقی الزامات میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔
28 سالہ ہادی مطر اس سے قبل ریاست نیویارک کی عدالت سے اقدام قتل کے جرم میں 25 سال قید کی سزا پا چکا ہے، تاہم وفاقی عدالت میں دہشت گردی کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد اسے عمر قید کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ حملہ 12 اگست 2022 کو ریاست نیویارک کے چوٹاکوا انسٹیٹیوشن میں اس وقت ہوا تھا جب سلمان رشدی لکھاریوں کی آزادی اور تحفظ کے موضوع پر خطاب کرنے والے تھے۔ اچانک حملہ آور اسٹیج پر چڑھ گیا اور چاقو کے وار شروع کر دیے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق سلمان رشدی کے جسم پر 15 مرتبہ چاقو کے وار کیے گئے، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے، ان کی ایک آنکھ کی بینائی مکمل طور پر ختم ہوگئی جبکہ انہیں گردن، چہرے، ہاتھ اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی سنگین زخم آئے۔
وفاقی استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ہادی مطر کا حملہ محض ذاتی دشمنی نہیں بلکہ بین الاقوامی دہشت گردی کا ایک منصوبہ تھا۔پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے 1989 میں سلمان رشدی کے قتل کے لیے جاری کیے گئے فتویٰ سے متاثر تھا، جو رشدی کے ناول "The Satanic Verses” کی اشاعت کے بعد جاری کیا گیا تھا۔عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ملزم نے 2021 اور 2022 کے دوران مختلف میسجنگ ایپس پر متعدد پیغامات بھیجے جن میں وہ سلمان رشدی پر اسلام کی توہین کا الزام لگاتا رہا اور انہیں قتل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا رہا۔
پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ ملزم نے اپنے ذاتی نوٹ میں یہ بھی تحریر کیا تھا "ہمیں اسے جلد از جلد قتل کرنا ہوگا۔”
ملزم کے وکیل نیتھنیل بارون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ حملے کے وقت ہادی مطر کے ذہن میں کیا ارادہ تھا۔دفاع کا کہنا تھا کہ صرف پیغامات یا نظریاتی وابستگی کو دہشت گردی کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔دوسری جانب ہادی مطر نے خود عدالت میں گواہی دینے سے انکار کر دیا۔
عدالت میں سلمان رشدی نے بتایا کہ وہ حملہ آور کے اصل ارادوں سے واقف نہیں تھے، تاہم حملے کی شدت واضح کرتی ہے کہ انہیں شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا”میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا مقصد کیا تھا، لیکن میرے جسم کے مختلف حصوں پر زخم اس حملے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔”
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ہادی مطر امریکی ریاست نیو جرسی میں مقیم تھا اور اس کے کمرے اور کمپیوٹر سے ایسی تصاویر اور مواد ملا جو لبنانی تنظیم حزب اللہ کی حمایت کی نشاندہی کرتے تھے۔وفاقی حکام کے مطابق ملزم نے سلمان رشدی کی رہائش اور عوامی تقریبات پر کئی ماہ تک نظر رکھی اور بالآخر چوٹاکوا انسٹیٹیوشن میں ان کی تقریر کو حملے کے لیے منتخب کیا۔
