لندن میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسلک افراد کی جانب سے ایک پاکستانی صحافی پر مبینہ تشدد کے واقعے نے صحافتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جیو نیوز کے نمائندے مرتضیٰ لندن مارچ کی کوریج کر رہے تھے کہ اسی دوران چند افراد نے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا اور ان پر تشدد کیا۔
ذرائع کے مطابق صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور معمول کے مطابق موقع پر موجود تھے۔ واقعے کے دوران مبینہ طور پر ان سے بدتمیزی کی گئی، انہیں دھکے دیے گئے اور کوریج سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ واقعے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن پر مختلف صحافتی تنظیموں اور صارفین نے اظہار تشویش کیا ہے۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میڈیا نمائندوں کو آزادانہ اور محفوظ ماحول میں اپنے فرائض انجام دینے کا حق حاصل ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی صحافی کو خبر کی کوریج کے دوران تشدد، دھمکی یا ہراسانی کا نشانہ بنانا آزادی صحافت کے اصولوں کے منافی ہے۔
واقعے کے بعد متعدد صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ شخصیات نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی شخص کے خلاف تشدد یا ہراسانی کے شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے یا سیاسی مؤقف کی بنیاد پر صحافیوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
تاحال لندن پولیس کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ واقعے میں نامزد افراد کی جانب سے بھی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔ مزید حقائق سامنے آنے پر تحقیقات کی روشنی میں صورت حال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
آزادی صحافت کے حامی حلقوں نے اس واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ صحافیوں کی حفاظت کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر عوام تک درست اور بروقت معلومات پہنچا سکیں۔
لندن میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حامیوں کا صحافی مرتضی علی شاہ پر تشدد
