Baaghi TV

لندن میں پبلک مقامات پر کھڑے ہو کر شراب نوشی محدود کرنے کی تجویز پر تنازع

لندن: برطانوی حکومت کے دفترِ وزیراعظم ڈاؤننگ اسٹریٹ نے ویسٹ منسٹر سٹی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ پب مالکان اور کاروباری افراد کے ساتھ مل کر کام کرے، جبکہ لندن میں پبز کے اندر کھڑے ہو کر شراب نوشی کو محدود کرنے کی مجوزہ پالیسی پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے کہا کہ لوگوں کا پبلک مقامات میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے بات چیت کرنا "برطانوی زندگی کا حصہ” ہے اور اسے عوامی خلل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ترجمان کے مطابق پب اور نائٹ لائف کا شعبہ ہزاروں ملازمتیں فراہم کرتا ہے، اس لیے مقامی رہنماؤں کو صنعت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ پبز ترقی کرتے رہیں۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ویسٹ منسٹر سٹی کونسل نے اپنی شراب لائسنسنگ پالیسی کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا۔ مسودے میں شراب فروخت کرنے والے مقامات پر بیٹھنے کی جگہ بڑھانے اور عمودی شراب نوشی کی حوصلہ شکنی کی تجویز دی گئی ہے۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ ایسے مقامات پر زیادہ نشستیں فراہم کی جائیں جہاں لوگ بیٹھ کر شراب نوشی اور کھانا کھا سکیں، جبکہ کھلے بار ایریا میں زیادہ تعداد میں لوگوں کے کھڑے ہو کر شراب پینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔کونسل کے مسودے میں ویسٹ اینڈ کے مخصوص علاقے میں نئے پب، بار، فاسٹ فوڈ یا میوزک وینیو کے لائسنس کو معمول کے طور پر مسترد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس علاقے میں آکسفورڈ اسٹریٹ سے ٹریفلگر اسکوائر تک کا علاقہ، بشمول لیسٹر اسکوائر اور سوہو، شامل ہے۔تاہم ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کے کنزرویٹو رہنما پال سوئڈل نے واضح کیا ہے کہ کھڑے ہو کر شراب پینے پر پابندی لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ابھی عوامی مشاورت کے مرحلے میں ہے اور عوام کی رائے لینے کا عمل اتوار کو ختم ہوگا۔ انہوں نے میڈیا پر دستاویز کی غلط یا مبہم تشریح کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ویسٹ منسٹر کے کسی پب میں کھڑے ہو کر شراب نوشی پر پابندی لگانے کا نہ کبھی منصوبہ تھا اور نہ ہے۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا کہ لندن کے میئر کو لائسنسنگ کے نئے اختیارات منتقل کیے جائیں گے تاکہ شہر کے پبز اور نائٹ لائف کو مزید معاونت فراہم کی جا سکے۔ ترجمان نے سوہو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ جلد آخری آرڈر لینے اور رات 10 بجے لائٹس بند کرنے سے دنیا بھر میں مشہور نہیں ہوا۔برطانوی وزیراعظم نے اس سے قبل بھی پبز کو ملک کی سماجی زندگی اور ہائی اسٹریٹس کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پبز، کلبز اور لائیو میوزک وینیوز کے لیے کاروباری شرحوں میں 20 فیصد کمی کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کا اطلاق اگلے سال اپریل سے متوقع ہے۔

دوسری جانب کاروباری مالکان نے بھی مجوزہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سوہو کے ایک وینیو مالک نے کہا کہ موجودہ بلند کرایوں اور کاروباری اخراجات کے باعث ان کا کاروبار ان صارفین پر بھی انحصار کرتا ہے جو پب میں کھڑے ہو کر مشروب نوش کرتے ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کے ترجمان نے بھی کھڑے ہو کر ہاتھ میں مشروب لے کر پب کے اندر یا باہر موجود رہنے کو برطانوی روایت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کو رات کی معیشت اور مقامی رہائشیوں کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنا چاہیے۔

لندن کے میئر صادق خان نے بھی ان تجاویز پر تنقید کی ہے، جس کے جواب میں ویسٹ منسٹر کونسل کے رہنما نے کہا کہ شہر کے عالمی شہرت یافتہ نائٹ لائف ڈسٹرکٹ کو چلانے کے لیے ضرورت سے زیادہ پابندیوں کی سوچ مناسب نہیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی ترجیح معاشی ترقی اور ہاسپیٹیلٹی سیکٹر کی حمایت ہے، نہ کہ کاروبار کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا۔

More posts