امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی خواہش ہے کہ مزید خونریزی نہ ہو اور مسائل کا حل سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔
لاس ویگاس میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ان کی اولین ترجیح جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے، اسی لیے ایران کے ساتھ ایک قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ایک انتہائی بڑے فوجی حملے کی تیاری مکمل کر لی تھی، جو گزشتہ ماہ کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہوتا۔ تاہم ان کے بقول ایرانی حکام نے رابطہ کر کے حملہ نہ کرنے کی درخواست کی اور مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
امریکی صدر نے کہا کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز بھی جلد عالمی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی تجارت کو استحکام ملے گا۔
انہوں نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مذاکرات میں احترام کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن ان کے مطابق ایران ماضی میں کئی مواقع پر اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتا رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جاری مذاکرات مثبت نتائج دیں گے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔
ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کی خواہش کا اظہار، کہا جنگ نہیں امن چاہتے ہیں
