Baaghi TV

‎بھارت: اولڈ ایج ہوم میں والد کا انتقال، تینوں بیٹیاں آخری رسومات میں بھی نہ پہنچیں

‎بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع سونی پت میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سابق ٹیکسٹائل تاجر شیوچرن رام رتن گپتا اولڈ ایج ہوم میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، مگر ان کی تینوں بیٹیاں آخری دیدار اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے بھی نہ پہنچ سکیں۔
‎بھارتی میڈیا کے مطابق شیوچرن گپتا اپنی اہلیہ مینا کے ساتھ تقریباً دو برس قبل اولڈ ایج ہوم منتقل ہوئے تھے۔ بعد ازاں ان کی اہلیہ انتقال کر گئیں جبکہ شیوچرن گپتا بیماری کے باعث وہیں مقیم رہے۔ اولڈ ایج ہوم انتظامیہ کے مطابق وہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے تین بجے انتقال کر گئے۔
‎انتظامیہ نے فوری طور پر ان کی تینوں بیٹیوں کو اطلاع دی اور سونی پت آ کر آخری رسومات میں شرکت کی درخواست کی، تاہم مختلف وجوہات بیان کرتے ہوئے کسی نے بھی آنے سے معذرت کر لی۔ بعد ازاں اولڈ ایج ہوم کے عملے اور مقامی شہریوں نے ان کی آخری رسومات ادا کیں، جبکہ بیٹیاں نیپال، اتر پردیش اور ممبئی سے ویڈیو کال کے ذریعے یہ مناظر دیکھتی رہیں۔
‎اولڈ ایج ہوم کے منتظم آنند کمار نے بتایا کہ مرحوم اکثر اپنے موبائل فون پر بیٹیوں سے رابطے میں رہتے تھے، لیکن بیماری بڑھنے کے بعد گفتگو کا سلسلہ کم ہو گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 20 روز قبل اہل خانہ کو ان کی بگڑتی ہوئی صحت سے بھی آگاہ کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود کوئی ملاقات کے لیے نہیں آیا۔
‎رپورٹ کے مطابق بڑی بیٹی، جو نیپال میں بطور ٹیچر خدمات انجام دے رہی ہیں، نے آخری رسومات کے اخراجات کے لیے آن لائن صرف 5 ہزار 100 بھارتی روپے بھیجے اور انتظامیہ سے تمام مذہبی رسومات مکمل کرنے کی درخواست کی۔ آخری رسومات کے بعد بیٹیوں نے ویڈیوز بھی بھجوانے کا کہا۔ ویڈیو کال کے دوران ایک بیٹی کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ "ابھی کتنا وقت لگے گا؟ ہمیں کھانا بھی کھانا ہے اور نہانا بھی ہے۔”
‎اولڈ ایج ہوم انتظامیہ نے بتایا کہ شیوچرن گپتا نے اپنی پوری زندگی بیٹیوں کی تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل کے لیے وقف کی۔ ان کی دو بیٹیاں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انتقال کے بعد مرحوم کی آنکھیں عطیہ کر دی گئیں، جن سے دو افراد کی بینائی بحال ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

More posts