تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے قریب ایک سیکنڈری اسکول میں طالب علم کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 طلبہ اور 3 اساتذہ سمیت کم از کم 6 افراد ہلاک جبکہ 15 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
فائرنگ کا واقعہ جمعہ کی صبح نونتھابوری صوبے کے ضلع بنگ کروئی میں واقع دیبسیرین نونتھابوری اسکول میں پیش آیا، جہاں تقریباً 3 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسکول ایک مصروف شاہراہ کے قریب واقع ہے۔پولیس ترجمان لیفٹیننٹ جنرل تریرونگ فیوپھن کے مطابق مشتبہ حملہ آور بھی شدید زخمی ہوا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے اسے ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔فائرنگ کے دوران اسکول میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ اندر موجود طلبہ نے اپنی جانیں بچانے کے لیے ڈیسکوں کے نیچے پناہ لی اور گولیوں کی آوازیں سن کر روتے رہے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں طلبہ کو کلاس رومز میں زمین پر بیٹھے اور ایک دوسرے کے قریب سمٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک اور ویڈیو میں طلبہ کو اسکول سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں ایک اسٹاف رکن ان کے انخلا میں مدد کر رہا تھا۔
ایک 18 سالہ طالب علم نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدا میں اسے لگا کہ شاید پٹاخے چل رہے ہیں۔ اس کے مطابق فائرنگ کی آوازیں تیزی سے آنے لگیں اور مسلسل ’’بینگ، بینگ، بینگ‘‘ کی آوازیں سنائی دینے لگیں، پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہوگئی۔پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کے دادا اور دادی بھی اس گھر میں مردہ پائے گئے جہاں وہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ پولیس کا ابتدائی خیال ہے کہ دونوں کو اسکول میں فائرنگ سے قبل ہی قتل کیا گیا تھا۔پولیس ترجمان کے مطابق حملہ آور اپنے والدین کے بجائے دیگر بالغ رشتہ داروں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔پولیس نے اسکول کے اندر سے ایک پستول اور متعدد گولیاں بھی برآمد کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اسلحہ خاندان کے ایک فرد کی ملکیت تھا تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مشتبہ طالب علم نے اس تک رسائی کیسے حاصل کی۔
فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں، ایمبولینسیں اور طبی عملہ اسکول پہنچ گیا۔ ایک ریسکیو اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر پہنچنے کے وقت صورتحال ’’مکمل افراتفری‘‘ کا شکار تھی۔امدادی کارکنوں نے ایسے طلبہ کو فوری طبی امداد فراہم کی جنہیں کمر، سینے اور بازوؤں پر گولیاں لگی تھیں۔ زخمیوں کو اسٹریچرز کے ذریعے ایمبولینسوں تک منتقل کیا گیا اور مختلف اسپتالوں میں پہنچایا گیا۔تھائی لینڈ کے سینٹرل انویسٹی گیشن بیورو نے تصدیق کی ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے۔
تھائی لینڈ میں شہریوں کے پاس اسلحے کی تعداد جنوب مشرقی ایشیا کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم سمال آرمز سروے کے 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق تھائی شہریوں کے پاس ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد غیر فوجی ہتھیار موجود تھے، یعنی ہر 100 افراد کے لیے تقریباً 15 ہتھیار۔یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن کے 2019 گلوبل برڈن آف ڈیزیز ڈیٹا کے مطابق فلپائن کے بعد تھائی لینڈ میں جنوب مشرقی ایشیا میں فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح نمایاں ہے۔
تھائی لینڈ میں اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات اس سے قبل بھی پیش آچکے ہیں۔ رواں سال فروری میں جنوبی تھائی لینڈ کے ہاٹ یائی ضلع میں ایک مسلح شخص کی اسکول میں فائرنگ سے ایک استاد ہلاک اور ایک طالب علم زخمی ہوا تھا۔اکتوبر 2022 میں تھائی لینڈ کے شمال مشرقی علاقے میں ایک ڈے کیئر سینٹر پر مسلح شخص کے حملے میں 36 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 24 بچے شامل تھے۔ یہ واقعہ ملک میں اپنی نوعیت کے مہلک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔حکام نے موجودہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مشتبہ نے ہتھیار کیسے حاصل کیا، اس نے اپنے خاندان کے افراد کو کیوں نشانہ بنایا اور اسکول میں فائرنگ کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے۔
