نیویارک: امریکہ کی مشہور ساحلی تفریح گاہ جرسی شور پر تعطیلات گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک خاتون نے انکشاف کیا کہ ان کا خاندان ہر سال صرف رہائش کے لیے تقریباً 10 ہزار امریکی ڈالر خرچ کرتا ہے، جس پر ہزاروں صارفین نے حیرت اور تنقید کا اظہار کیا۔
فلاڈیلفیا سے تعلق رکھنے والی ماں اور سوشل میڈیا انفلوئنسر کیٹ کار ووگل نے ایک ویڈیو میں بتایا کہ ان کا خاندان ہر سال جرسی شور میں ایک گھر کرائے پر لیتا ہے، لیکن اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔انہوں نے کہا کہ کرائے کے مکان میں نہ بستر کی چادریں ملتی ہیں، نہ ٹوائلٹ پیپر، نہ پیپر ٹاولز، نہ کافی اور نہ ہی کھانے پینے کی کوئی چیز۔ ان کے بقول تمام سامان خود ساتھ لانا پڑتا ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "ہم بنیادی طور پر 10 ہزار ڈالر دے کر کیمپنگ کرنے آتے ہیں۔”
ویڈیو میں خاتون نے شکایت کی کہ پارکنگ کی سہولت بھی محدود ہے، جس کے باعث ساحل تک پہنچنے کے لیے بیچ چیئر، بیگز اور دیگر سامان اٹھا کر کافی دور تک پیدل چلنا پڑتا ہے۔یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد تک پہنچ گئی اور سوشل میڈیا پر جرسی شور کی مہنگی تعطیلات کے حوالے سے شدید بحث شروع ہوگئی۔
صارفین نے قیمت کو "پاگل پن” قرار دے دیا
متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ آخر اتنی بڑی رقم ایک مقامی ساحل پر خرچ کرنے کا کیا جواز ہے۔ایک صارف نے لکھا "10 ہزار ڈالر میں تو یونان (Greece) کی شاندار چھٹیاں منائی جا سکتی ہیں۔”ایک اور تبصرہ تھا”پانچ ہزار ڈالر میں تو پورا خاندان کیریبین کی بہترین چھٹی گزار سکتا ہے۔”
ایک مقامی رہائشی نے دعویٰ کیا کہ جرسی شور میں کسی بھی مکان کا اتنا کرایہ نہیں۔کچھ صارفین نے بحر اوقیانوس کے ساحل کے پانی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
پھر بھی جرسی شور کیوں مقبول ہے؟
اگرچہ بہت سے افراد نے اس خرچ کو غیر منطقی قرار دیا، لیکن جرسی شور کے مستقل سیاحوں نے اس روایت کا بھرپور دفاع کیا۔ایک صارف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ساحل پر جانے کا معاملہ نہیں بلکہ کئی خاندانوں کی دہائیوں پرانی روایت ہے۔ان کے مطابق ہر سال ایک ہی شہر، ایک ہی کرائے کا گھر، وہی دوست، وہی بورڈ واک پر پہلی رات پیزا کھانے کی روایت، بدھ کے روز منی گالف کھیلنا اور پسندیدہ ریستورانوں میں کھانا کھانا ان تعطیلات کو خاص بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے بھی یہ یادگار لمحات ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہر سال انہی دوستوں سے اسی ہفتے ملاقات کرتے ہیں، اور یہی روایات اس مہنگے سفر کو ان کی نظر میں قابلِ قدر بناتی ہیں۔

حالیہ برسوں میں جرسی شور ایک مرتبہ پھر نوجوانوں اور امیر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ساحلی کلب، بارز اور بورڈ واکس پر نوجوانوں کا رش رہتا ہے جبکہ بعض مقبول مقامات پر وی آئی پی داخلے کے لیے سینکڑوں ڈالر وصول کیے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں ساحلی علاقوں میں لگژری جائیدادوں کی قیمتیں بھی لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جس سے یہ علاقہ امریکہ کی مہنگی ترین تفریحی منزلوں میں شمار ہونے لگا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا مقامی ساحل پر چند روزہ تعطیلات کے لیے 10 ہزار ڈالر خرچ کرنا مناسب ہے یا یہی رقم بیرون ملک نسبتاً سستی اور زیادہ پرتعیش چھٹیوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔
