Baaghi TV

ڈیٹنگ کے تلخ تجربات،نیویارک میں سنگلز نے ملاقاتوں کی کہانیاں سنا دیں

نیویارک: امریکہ کے شہر نیویارک میں منعقد ہونے والی ایک منفرد تقریب میں سینکڑوں نوجوان، خصوصاً خواتین، جدید ڈیٹنگ کلچر کے دوران پیش آنے والے تلخ، عجیب اور بعض اوقات تکلیف دہ تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے جمع ہوئیں۔ اس تقریب کا مقصد ایسے افراد کو یہ احساس دلانا تھا کہ محبت اور تعلقات میں پیش آنے والی مشکلات صرف ان کے ساتھ نہیں بلکہ بہت سے لوگ اسی طرح کے تجربات سے گزرتے ہیں۔

یہ تقریب "About Last Night” کے عنوان سے بروکلین کے علاقے گووانس میں منعقد ہوئی، جہاں شرکاء نے اسٹیج پر آ کر اپنی ناکام ملاقاتوں، غیر مناسب رویوں اور جذباتی صدمات کی کہانیاں سنائیں۔ اس تقریب کا آغاز 2016 میں ہوا تھا اور اب یہ امریکہ کے مختلف شہروں میں منعقد کی جاتی ہے۔تقریب کے دوران کئی شرکاء نے ایسی کہانیاں بیان کیں جنہوں نے حاضرین کو حیران بھی کیا اور ہنسنے پر بھی مجبور کر دیا۔

ایک خاتون نے بتایا کہ 22 سال کی عمر میں نیویارک میں اپنی پہلی ون نائٹ ملاقات کے دوران ان کا ساتھی اچانک برہنہ حالت میں ایک اسٹینڈنگ ڈیسک پر بیٹھ گیا اور اسے اوپر نیچے حرکت دیتا رہا، جس پر وہ شدید حیرت میں مبتلا ہو گئیں۔

ایک اور خاتون سی جے نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ان کا تعلق ایک جاپانی نوجوان سے رہا، جو اسکیٹ بورڈنگ کرتا تھا اور مبینہ طور پر کوکین فروخت کرتا تھا۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ وہ دراصل اپنی مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے والے ایک اور شخص سے محبت کرتی ہیں۔ اس نوجوان کے گھر سے نکلنے کے بعد وہ اچانک بلیک لائیوز میٹر کے احتجاج میں شامل ہو گئیں، جہاں پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس استعمال کی۔

ایک مرد شریک نے بتایا کہ اس کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جو پہلے ہی ایک سخت نوعیت کے ذاتی تعلق میں بندھی ہوئی تھی، جہاں اس کے دوسرے ساتھی کی جانب سے اس کے پیغامات تک پڑھے جا رہے تھے اور اس کی ملاقاتوں پر بھی کنٹرول رکھا جاتا تھا۔

اسی طرح ایک خاتون نے انکشاف کیا کہ ان کے دفتر کے ایک ساتھی نے دوسری ملاقات کے دوران اپنی ایک غیر معمولی جنسی پسند کے بارے میں بتایا، جس کے بعد انہیں شدید بے چینی کا سامنا کرنا پڑا۔

چیس جیمز، جو اس تقریب کے بانی ہیں، نے بتایا کہ اس خیال کی ابتدا ان کے دوستوں کی اس عادت سے ہوئی کہ وہ ہر صبح ناشتے پر گزشتہ رات کی بدترین ڈیٹنگ کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے تھے۔انہوں نے تقریباً دس سال قبل سان فرانسسکو میں اس سلسلے کا آغاز کیا، جس کے بعد اسے شکاگو، نیویارک، ڈینور اور سیئٹل تک وسعت دی گئی، جبکہ جلد ہی آسٹن اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی ایسی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔چیس جیمز کے مطابق "جب لوگ اپنی تکلیف دہ یادوں پر ایک ساتھ ہنستے ہیں تو وہ بوجھ کچھ ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے۔”

تقریب میں سنائی جانے والی بیشتر کہانیوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ موجودہ دور میں بہت سے نوجوان تعلقات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے عارضی اور سطحی انداز میں دیکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذباتی نقصان، عدم اعتماد اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

تقریب کی آخری مقررہ، ڈیزی نامی خاتون، نے اپنی ذاتی زندگی کا ایک نہایت جذباتی واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شخص سے کئی ملاقاتوں کے بعد انہوں نے اپنی خواہش کے برخلاف صرف اس امید پر جسمانی تعلق قائم کیا کہ شاید اس سے تعلق مزید مضبوط ہو جائے۔انہوں نے اس شخص سے باقاعدہ تعلق کی خواہش کا اظہار بھی کیا، تاہم اسے مسترد کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایک طبی پیچیدگی کے باعث انہیں شدید خون بہنے کی شکایت ہوئی اور فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا، جہاں انہیں ہنگامی سرجری سے گزرنا پڑا جبکہ ان کا ساتھی انہیں اسپتال میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا۔ڈیزی نے حاضرین سے کہا کہ اس واقعے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اکثر لوگ معاشرتی دباؤ یا دوسروں کی توقعات کے باعث ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جو ان کی اپنی خواہشات اور حدود کے خلاف ہوتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ڈیٹنگ کے بہت سے مسائل صرف دوسروں کے رویوں کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض اوقات لوگ خود بھی دباؤ، تنہائی یا قبول کیے جانے کی خواہش میں اپنی ذاتی حدود سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صحت مند تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ افراد اپنی عزتِ نفس، ذاتی حدود اور جذباتی ضروریات کو ترجیح دیں اور ایسے رویوں کو قبول نہ کریں جو ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔

More posts