امریکا نے عراق سے متعلق اپنی پابندیوں کی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ایک جانب فلائی بغداد ایئرلائن پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کے الزام میں عراقی نائب وزیرِ پیٹرولیم اور متعدد کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق فلائی بغداد ایئرلائن پر انسداد دہشت گردی کے تحت عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ایئرلائن کے دو بوئنگ 737 طیاروں کو بھی پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ طیارے بھی امریکی پابندیوں کے دائرے میں نہیں رہیں گے۔
یاد رہے کہ فلائی بغداد پر 2024 میں یہ الزام عائد کرتے ہوئے پابندیاں لگائی گئی تھیں کہ اس کے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط موجود ہیں۔ امریکی حکام نے اس وقت ایئرلائن کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی کی تھی، تاہم اب محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کے الزام پر عراق کے ڈپٹی وزیرِ پیٹرولیم علی معارج بھادلی کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ علی معارج بھادلی ایران کے ساتھ پیٹرولیم انڈسٹری میں تعاون اور کاروباری روابط میں ملوث رہے، جس کے باعث ان کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا فیصلہ کیا گیا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اس کارروائی کے دوران تین آئل کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں جن پر علی معارج بھادلی کے ساتھ مالی یا تجارتی روابط رکھنے کا الزام ہے۔
امریکا نے فلائی بغداد سے پابندیاں اٹھا لیں
