Baaghi TV


برطانیہ میں بچوں سے زیادتی کے الزامات، آزاد کشمیر کے رکن اسمبلی رخسار احمد تحقیقات کی زد میں

‎برطانوی اخبار گارڈین کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر سے رکن اسمبلی اور سابق پاکستانی وزیرِ مملکت رخسار احمد برطانیہ میں بچوں سے جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 62 سالہ رخسار احمد کو جولائی 2024 میں برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ 1990 کی دہائی میں مانچسٹر کے علاقے رشولم میں کم عمر اور غیر محفوظ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں اسمگل کرنے والے ایک مبینہ گروہ سے منسلک تھے۔ بعد ازاں انہیں پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور تحقیقات تاحال جاری ہیں۔‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رخسار احمد کو گزشتہ ماہ مانچسٹر کے ایک پولیس اسٹیشن میں ضمانت کی شرائط کے تحت پیش ہونا تھا، تاہم انہوں نے مبینہ طور پر طبیعت ناساز ہونے کے باعث برطانیہ سفر نہ کرنے کا عذر پیش کیا۔

دوسری جانب اسی دوران وہ پاکستان میں آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے سوشل میڈیا پر نظر آئے۔رخسار احمد گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ 2006 سے مختلف ادوار میں حکومتی عہدوں پر فائز رہے اور 2021 میں اپنی نشست ہار گئے تھے۔گارڈین کے مطابق گریٹر مانچسٹر پولیس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ رخسار احمد کے بیرون ملک سفر پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں، تاہم جولائی 2024 میں عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔‎تحقیقات سے متعلق بتایا گیا ہے کہ کم از کم دو خواتین نے پولیس کو بیان دیا کہ جب وہ کم عمر تھیں تو رخسار احمد مبینہ طور پر ان کے ساتھ زیادتی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ یہ تحقیقات 1990 کی دہائی میں بچوں کے نگہداشت مراکز سے متعلق سامنے آنے والے متعدد الزامات کا حصہ ہیں۔

‎رپورٹ کے مطابق اگر رخسار احمد آئندہ چند ہفتوں میں پولیس کے سامنے پیش نہ ہوئے تو گریٹر مانچسٹر پولیس ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے یا حوالگی کی کارروائی شروع کرنے پر غور کر سکتی ہے، جس سے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔‎مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ایک سینئر رہنما نے اخبار کو بتایا کہ وہ رخسار احمد کو دو دہائیوں سے جانتے ہیں، تاہم انہیں ان الزامات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ دوسری جانب رخسار احمد نے گارڈین کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

More posts