کراچی: ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں کمرشل پلاٹ کی خریداری میں مبینہ فراڈ کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ نے 21 برس پرانی اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے ہرجانے کی رقم 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 کروڑ روپے مقرر کر دی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ ریئل اسٹیٹ کمپنی اور پلاٹ کا موجودہ خریدار مشترکہ طور پر ہرجانے کی رقم ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ عدالت نے ہرجانے کی رقم پر 1998ء سے 15 فیصد سالانہ مارک اپ کی ادائیگی کا بھی حکم دیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق 1997ء میں کمرشل پلاٹ کی خریداری کے لیے 43 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے، تاہم مکمل ادائیگی کے باوجود پلاٹ کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کر دیا گیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ جاری کردہ پے آرڈر معاہدے میں بطور قیمت استعمال ہوا تھا، جبکہ پلاٹ کے موجودہ خریدار کی جانب سے ادائیگی سے متعلق کوئی مؤثر دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مدعی تقریباً تین دہائیوں تک اپنے سرمائے اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رہا، جس کے باعث اسے مناسب معاوضہ دینا ضروری ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ڈیفنس کے کمرشل پلاٹس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، لہٰذا صرف اصل رقم یا معمولی ہرجانے کی ادائیگی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتی۔عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو فیصلے کے مطابق ہرجانہ اور مارک اپ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔
