Baaghi TV

کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

homeopethic

‎کراچی: شدید گرمی اور عیدالاضحیٰ کے بعد قربانی کے گوشت کے غیر مناسب استعمال کے باعث کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سول اسپتال کراچی میں روزانہ پیٹ کے امراض اور ڈائریا کے 200 سے زائد مریض علاج کے لیے لائے جا رہے ہیں، جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بھی گیسٹرو کے یومیہ مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔
‎جناح اسپتال کے ڈاکٹر عمران کے مطابق بڑی تعداد میں شہری شدید پیٹ درد، الٹی، متلی، بخار اور لوز موشن کی شکایات کے ساتھ ایمرجنسی میں پہنچ رہے ہیں، جن میں بچوں اور بزرگوں کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔
‎طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کے بعد قربانی کا گوشت مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھنے، بار بار گرم کرنے اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کے باعث معدے اور آنتوں کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
‎ماہرین کے مطابق فریزر میں طویل عرصے تک رکھا گیا گوشت اگر مناسب طریقے سے نہ پکایا جائے تو اس میں موجود جراثیم صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں خوراک میں بیکٹیریا کی افزائش بھی تیزی سے ہوتی ہے، جس کے باعث آلودہ یا باسی کھانا گیسٹرو اور اسہال کا سبب بن سکتا ہے۔
‎ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باہر کے غیر معیاری کھانوں، باسی گوشت اور آلودہ پانی سے پرہیز کریں، صرف ابلا یا صاف پانی استعمال کریں، تازہ اور اچھی طرح پکا ہوا کھانا کھائیں اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
‎ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسلسل الٹی، شدید اسہال یا پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔

More posts