Baaghi TV

گوجرخان معمولی بارش سے ندی میں تبدیل

بلدیہ کے کروڑوں کے فنڈز نالوں کی صفائی کے ٹھیکے کاغذی نکلے
شہری حلقوں کا بلدیہ گوجرخان کو سفید ہاتھی قرار دیتے ہوئے ترقیاتی فنڈز اور ٹیکسوں کی رقم کے فوری آڈٹ کا مطالبہ
صرف فوٹو سیشن اور ٹاوٹ کلچر نہیں چلے گا سی او، انجینئرز اور ٹھیکیداروں کا کڑا احتساب کر کے بندربانٹ کا حساب لیا جائے: عوامی حلقوں کا شدید احتجاج
گوجرخان (قمرشہزاد مغل) گوجرخان شہر کا سیوریج سسٹم مکمل طور پر بیٹھ گیا، معمولی سی بارش نے بلدیہ کی کارکردگی کا پول کھولتے ہوئے شہر کے تجارتی مراکز اور گلیوں کو ندی نالوں میں تبدیل کر دیا۔ بازاروں کی حالتِ زار دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے جیسے دکانیں کسی دریا کے آمنے سامنے بنی ہوں۔ اس سنگین صورتحال پر شہری حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بلدیہ گوجرخان کی انتظامیہ کے خلاف چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے تیکھے سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ بلدیہ گوجرخان کو ملنے والے کروڑوں روپے کے فنڈز اور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اکٹھے ہونے والے ٹیکس آخر کہاں استعمال ہو رہے ہیں؟ سابق چیف افسر کے دور میں نالوں کی صفائی کے نام پر دیے جانے والے مہنگے ٹھیکے زمین پر کہیں نظر نہیں آ رہے، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹھیکے مبینہ طور پر صرف مخصوص جیبیں بھرنے کے لیے دیے گئے تھے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ کے چیف افسر، انجینئرز اور سب انجینئرز آخر کس کام کی بھاری تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں؟ کیا ان افسران کا کام صرف ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنا ہے؟ شہر کی کوئی ایک گلی، محلہ، بازار یا سروس روڈ ایسی نہیں بچی جو ہلکی سی بارش کے بعد جوہڑ کا منظر پیش نہ کر رہی ہو۔ بلدیہ گوجرخان اب ایک سفید ہاتھی بن چکی ہے جس کا کام صرف فنڈز کو ہڑپ کرنا رہ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عوامی حلقوں نے موجودہ صورتحال کو فنڈز کی بندربانٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیہ کے ترقیاتی فنڈز کا فوری طور پر اعلیٰ سطحی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ کس دور میں کس نے کتنا لوٹا اور کس کو نوازا گیا۔ شہریوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اب محض فوٹو سیشن اور ٹاوٹ کلچر کی سیاست نہیں چلے گی، جہاں ہر آنے والا افسر چند مخصوص کارندوں کو ساتھ ملا کر صرف تصویریں کھنچواتا ہے جبکہ عملی کام صفر ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ غافل افسران، سب انجینئرز اور کام چور ٹھیکیداروں کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور عوامی ٹیکس کے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے۔

More posts