Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سندھ حکومت نے موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کردی

    سندھ حکومت نے موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کردی

    سندھ حکومت نے پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کرتے ہوئے اس مد میں 2 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، شہری سہولیات اور انتظامی اصلاحات سے متعلق متعدد بڑے فیصلوں کی منظوری دی گئی کابینہ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 5 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ 1.096 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

    ترجمان سندھ حکومت کے مطابق، موٹر سائیکل کیب سروسز کے لیے سیلز ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیا گیا، جس سے آن لائن ڈرائیورز کو ریلیف ملے گااسی طرح کابینہ نے کراچی میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے مرمت کا کام فوری شروع کرنے اور فنڈز جلد جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    کابینہ اجلاس میں دریائے سندھ پر حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان نئے پل کے ڈیزائن کی بھی منظوری دی، جس کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ پل اندرونِ ملک ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور سفری سہولت میں اضافے کا باعث بنے گا،عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کرتے ہو ئے ضلعی عدالتوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے 48.9 ملین روپے مختص کیے گئے جبکہ مورو میں 4 نئی عدالتوں کی تعمیر کے لیے 432.597 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ اقدامات عدالتی نظام کو جدید بنانے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، اسی سلسلے میں دادو میں پیر الٰہی بخش لا کالج کے لیے 25 ملین روپے گرانٹ بھی منظور کی گئی۔

    ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ اجلاس میں صحت کے شعبے پر بھی توجہ دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ سکھر ٹراما سینٹر کو جون 2026 تک فعال بنایا جائے انسداد تجاوزات کے حوالے سے شہید بینظیر آباد ڈویژن میں ٹریبونل کے قیام کی منظوری دی گئی، جو سندھ پبلک پراپرٹی ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے گا۔

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سندھ ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر کی تقرری کا عمل جلد شروع کیا جائے، جبکہ آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں اس کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے، کراچی میں میگا قبرستان کے قیام کے لیے 500 ایکڑ زمین مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی یہ زمین ضلع ملیر کے دیہہ میٹھا گھر میں مختص کی جائے گی اور محکمہ بلدیات کے حوالے کی جائے گی۔

    توانائی کے شعبے میں سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ فیصل ملک کو ممبر فائنانس اینڈ پالیسی مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی،اجلاس میں سیس ترمیمی ایکٹ 2026 کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت 132 درخواست گزاروں نے تصفیہ معاہدوں پر دستخط کیے جبکہ 18 ارب روپے سے زائد کی بینک گارنٹیز کیش ہو چکی ہیں۔

    انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2026 کو اسمبلی کو بھجوا دیا گیا وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ بل کارپوریٹ زیاد تیوں کے خلاف مؤثر اقدامات یقینی بنائے گا اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرے گا مذکورہ بل کے تحت چیئرپرسن اور اراکین کی مدت 4 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے اور سابق ججز کو چیئرپرسن مقرر کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

  • اسلام آباد پولیس کی کارروائی:بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار

    اسلام آباد پولیس کی کارروائی:بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار

    اسلام آباد: اینٹی موٹر سائیکل لفٹنگ یونٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار گینگ، جسے ’مانو گینگ‘ کہا جاتا ہے، کے 3 ارکان کو لیڈر سمیت حراست میں لیا گیا ہے،ملزمان میں کاشف عر ف مانو، جلال حیدر اور محمد ذیشان شامل ہیں،جو موٹر سائیکل چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث اور سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں ملزمان سے لاکھوں روپے ما لیت کے 13 چوری شدہ موٹر سائیکل، جعلی کرنسی اور اسلحہ و ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے موٹر سائیکل 10 سے زائد مقدمات میں چوری کیے گئے تھے، یہ گینگ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہا ہے ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کا کہنا ہے کہ پولیس منظم اور متحرک جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

  • ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان کے خلاف عدم پسندیدگی کی شرح 62 سے 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے حالیہ پول کے مطابق، 62 فیصد امریکی ٹرمپ کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں، جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں سب سے بلند ترین سطح ہے دیگر رپورٹس میں یہ شرح 67 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور معاشی مسائل کے بعد، 66 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی کو ناپسند کیا ہے۔

    رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق، معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں صرف 23 فیصد امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات سے خوش ہیں، جبکہ 76 فیصد نے ان کی معاشی پالیسیوں پر ناگواری کا اظہار کیا ہے سروے میں شامل دو تہائی (تقریباً 66 فیصد) امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے-

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت کو قیادت کے تقاضوں کے مطابق نامناسب قرار دیا اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

    انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

    سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہےیہ صورتحال نومبر 2026ء میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید سیاسی مشکلات کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے-

  • ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایران کے جنوبی صوبے بوشہر کی بندرگاہِ دیر (Dayyer Port) میں لنگر انداز متعدد تجارتی بحری جہازوں (لانچوں) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے –

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق یہ آگ بندرگاہ کے کمرشل ایریا میں لگی جس سے وہاں موجود تجارتی سامان کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اس وقت فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں،واقعے کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں اور کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

    دیر پورٹ کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ماجد عمرانی نے بھی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مہر نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں فی الحال اس حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے اس واقعے کی وجہ کا اعلان فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے متحدہ عرب امارات پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔

  • ایران کی جانب سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات پر حملے کی دھمکی

    ایران کی جانب سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات پر حملے کی دھمکی

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے سعودی عرب اور عمان کو آگاہ کیا تھا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ متحدہ عرب امارات کو اپنے جوابی حملوں میں "بھاری نشانہ” بنائے گا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے سعودی حکام کے ساتھ ایک بات چیت میں ریاض اور ابوظہبی کے درمیان موجودہ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے امارات کو "کچلنے” کی دھمکی دی تھی،ایران نے مبینہ طور پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ارکان کو یہ پیغام دیا کہ امارات کی جانب سے ایرانی اہداف کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی (بشمول امریکی/اسرائیلی فورسز کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دینا) کی صورت میں، یو اے ای کو سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یہ اقدام بظاہر جی سی سی کے اندر، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی دراڑ کو وسیع کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات اب مختلف سمتوں میں جا رہے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، 2026ء کی ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل آرڈر کو بدل دیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اب روایتی عرب صف بندی کے بجائے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ زیادہ قریب ہو گیا ہے سعودی حکام نے اس دھمکی آمیز زبان کو ناپسند کیا اور وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ 2026ء کے اوائل میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے، جس سے ان ملکوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوا۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    ’وائٹ ہاؤس‘ کے قریب فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک مشکوک مسلح شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

    امریکی خفیہ ادارے ’سیکرٹ سروس‘ نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے قریب تعینات اہلکاروں کا ایک مسلح اور مشکوک شخص سے سامنا ہوا جس نے اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں زخمی ہو گیا،اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

    سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بیرونی حصوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کی نشاندہی کی جو مشکوک لگ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے پاس اسلحہ ہے جب سیکرٹ سروس کے افسران اس شخص کے قریب پہنچے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے پیدل بھاگا اور اس نے اہلکاروں کی سمت میں گولی چلائی، اس کے بعد سیکرٹ سروس نے مشتبہ شخص پر جوابی فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    میتھو کوئن نے انکشاف کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ اس واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے اس علاقے سے گزرا تھا، تاہم ابھی تک ایسے کوئی اشار ے نہیں ملے کہ مشتبہ شخص کا ارادہ نائب صدر کے قافلے تک پہنچنا تھا اس واقعے کے دوران ایک کم عمر راہگیر بھی مشتبہ شخص کی گولی کا نشانہ بنا لیکن اسے کوئی جان لیوا چوٹ نہیں آئی اور اس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

    مشتبہ شخص وائٹ ہاؤس کی حدود کے اندر موجود نہیں تھا بلکہ باہر تھا، حملہ آور کا رخ صدر کی طرف تھا یا نہیں، اس وقت میں نہیں جانتا لیکن ہم جلد ہی اس کا پتہ لگا لیں گے مشتبہ شخص سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔

  • دبئی اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی، اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” کے خدشات

    دبئی اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی، اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” کے خدشات

    رواں سال 2026ء کے ابتدائی مہینوں میں متحدہ عرب امارات (UAE) میں دبئی اور ابوظہبی کی قیادت کے درمیان سٹریٹجک اور اقتصادی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” (تبدیلیوں) کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

    اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے اندر ایک بڑا سیاسی اختلاف جنم لے رہا ہے دبئی کے حکمران اور ابوظہبی کے حکمران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی برسوں کے دوران سب سے بڑی اندرونی تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے، اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہےتو اس سے پورے خلیج کا طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

    دوسری طرف شارجہ کا حکمران اسرائیل سے تعلقات و موجودگی ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں تحفظات رکھتا ہے کہ اس میں متحدہ عرب امارات کو امریکا اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دینی چاہیے تھی اور متحدہ عرب کا عالمی تیل تنظیم سے نکلنا بھی درست نہیں ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شارجہ متحدہ عرب امارات سے الگ ہو کر ایک الگ سے جمہوریہ یا شارجہ نام و پرچم کے ساتھ وطن بنانے کا منصوبہ زیر غور رکھتا ہے،

    رپورٹس اور سیاسی تجزیوں کے مطابق، ان خدشات کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

    1. سٹریٹجک خود مختاری اور خارجہ پالیسی:
    ابوظہبی، جس کی قیادت صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کر رہے ہیں، اپنی "سٹریٹجک خود مختاری” (Strategic Autonomy) پر زور دے رہا ہے، جو بعض اوقات دبئی کی کاروباری اور بین الاقوامی پالیسیوں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ اختلافات علاقائی تنازعات، جیسے سوڈان اور یمن، میں کردار کے حوالے سے بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

    2. اوپیک (OPEC) سے علیحدگی اور تیل کی پالیسی:
    اپریل 2026ء میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس (OPEC+) سے علیحدگی کا اعلان ابوظہبی اور ریاض کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے یو اے ای کے اندرونی اتحاد کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ اقدام بظاہر ابوظہبی کی اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے کی خواہش کے تحت کیا گیا۔

    3. اقتصادی اور کاروباری مسابقت:
    دبئی اور ابوظہبی کے درمیان غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیلنٹ، اور کارپوریٹ ہیڈکوارٹرز کو راغب کرنے کی مسابقت میں شدت آ گئی ہے۔ ابوظہبی نے اپنی معاشی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی فرموں کو اپنی طرف راغب کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    4. علاقائی سیکیورٹی صورتحال (2026ء):
    فروری/مارچ 2026ء میں ایران کی جانب سے یو اے ای کے سیکیورٹی انفراسٹرکچر پر حملوں (ڈرون اور میزائل حملوں) نے دبئی کے ایک محفوظ تجارتی مرکز (Safe Haven) کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے اس صورتحال نے دبئی کی معیشت اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مستقبل پر اثر ڈالا ہے، جس سے انتظامی ترجیحات پر سوالات اٹھے ہیں۔

    5. قیادت کا ردعمل:
    اگرچہ 11 اپریل 2026ء کو سرکاری خبر رساں اداروں نے یہ رپورٹ کیا کہ شیخ محمد بن زاید اور شیخ محمد بن راشد نے ملاقات کی اور قومی یکجہتی پر زور دیا، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اختلافات انتظامی سطح پر موجود ہیں۔

    ان اطلاعات کے مطابق، دبئی اور ابوظہبی کے درمیان اب یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں، بلکہ ایک کھلی مسابقت اور سٹریٹجک تضاد بن چکا ہے، جو مستقبل میں متحدہ عرب امارات کی پالیسی سازی، کابینہ یا انتظامی ڈھانچے میں کسی بڑے شیک اپ کی بنیاد بن سکتا ہے۔

  • ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی  انٹیلیجنس

    ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلیجنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار وقت میں پچھلے سال کے مقابلے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،حالانکہ گزشتہ سال ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اس عمل کو ایک سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق یہ اندازے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی دو ماہ کی جنگ کے باوجود وہیں برقرار ہیں، جبکہ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنا تھا28 فروری سے جاری حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زیادہ تر ایران کے روایتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اسرائیل نے چند اہم ایٹمی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے وقت میں تبدیلی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی بڑی رکاوٹ ڈالنی ہے تو اس کے لیے تہران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنا یا وہاں سے ہٹانا ضروری ہوگا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ امریکا کا مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    اس سے قبل انٹیلی جنس اداروں کا خیال تھا کہ ایران 3 سے 6 ماہ میں ایٹمی بم بنا سکتا ہے، لیکن جون میں نطنز، فردو اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر امر یکی حملوں کے بعد یہ اندازہ 9 ماہ سے 1 سال تک بڑھا دیا گیا تھاتاہم اقوام متحدہ کے ایٹمی نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش معطل ہونے کی وجہ سے 60 فیصد تک افزودہ 440 کلوگرام یورینیم کے ٹھکانے کی تصدیق نہیں کر سکا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اصفہان میں زیر زمین سرنگوں میں چھپا یا گیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، وہیں آپریشن ایپک فیوری نے ایران کے اس دفاعی صنعتی ڈھانچے کو ختم کر دیا جسے وہ اپنے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے ،صدر ٹرمپ نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور وہ محض باتیں نہیں کرتے۔

    اگرچہ اسرائیل نے ایٹمی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، لیکن امریکا نے زیادہ توجہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت پر مرکوز رکھی ہےسابق امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں میں تبدیلی نہ آنا حیران کن نہیں ہے کیونکہ حالیہ حملوں میں ایٹمی تنصیبات کو ترجیح نہیں دی گئی، جہاں تک ہمیں معلوم ہے، ایران کے پاس اب بھی تمام ایٹمی مواد موجود ہے جو غالباً ایسی گہری زیر زمین جگہوں پر ہے جہاں امریکی بموں کی رسائی نہیں ہے۔

    دوسری جانب سابق انسپکٹر ڈیوڈ البرائٹ کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے قتل نے تہران کی بم بنانے کی صلاحیت کو مشکوک بنا دیا ہے سب اس بات پر متفق ہیں کہ علم کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن کام کرنے کی مہارت کو ضرور تباہ کیا جا سکتا ہے۔

  • ایران پر  امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    ایران پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا اور برطانوی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اور اسرائیل کے ایران پر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں حملے کا شدید امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ متوقع ہے حالیہ واقعات نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اب ایک مربوط فوجی جواب پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

    یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ایک تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا اور دبئی کی فضاؤں میں میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد ایرانی اہداف نشانے پر ہیں، جبکہ امریکی سینٹ کام نے پہلے ہی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے،ایران میں بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نے کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کی تیاری کر رکھی ہے،اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں ایران کے وسطی اور مغربی حصوں میں 140 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

    اسی حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی فورسز کی سات کشتیاں تباہ کی ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں ایران نے جنوبی کوریا کے مال بردار جہاز سمیت دیگر غیر متعلقہ ممالک کے جہازوں پر حملے کیے ہیں، اب شاید وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی ہمارے مشن کا حصہ بن جائے۔

    صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت وارننگ دی کہ اگر ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو جائے یا پھر مکمل فوجی کارروائی کی طرف واپسی ہو۔

    اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز جو کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔

  • چین میں آتش بازی فیکٹری میں دھماکا، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی

    چین میں آتش بازی فیکٹری میں دھماکا، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی

    چین کے صوبہ ہونان کے شہر لیویانگ میں ایک آتش بازی فیکٹری میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک جبکہ 61 زخمی ہو گئے۔

    چینی میڈیاکے مطابق ہواشینگ فائر ورکس پلانٹ میں یہ دھماکا پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 40 منٹ پر ہوا، جس کے بعد امدادی ٹیمو ں نے فیکٹری کے گرد 3 کلومیٹر کے علاقے کو خالی کرا لیا، قریباً 500 اہلکاروں کو ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا جبکہ عمارت کے ملبے تلے دبے افرا د کو تلاش کرنے کے لیے روبوٹس کی بھی مدد لی گئی، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فیکٹری کے ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں موجود بارود کے 2 گودام امدادی سرگرمیوں کے دوران شدید خطرہ بنے ہوئے تھے، جس کے باعث مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، جن میں علاقے کو نم رکھنا بھی شامل تھا تاکہ کسی دوسرے حادثے سے بچا جا سکے،دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ قریبی رہائشی عمار توں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ کھڑکیوں کے فریم اور دروازے بھی شدید متاثر ہوئے، زخمی ہونے والوں کی عمریں 20 سے 60 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں سے بعض افراد ملبے کے ٹکڑوں سے ٹکرا کر ہڈیوں کی چوٹوں کا شکار ہوئے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کی تلاش اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لیویانگ شہر دنیا میں آتش بازی کی مصنوعات کی سب سے بڑی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم اس صنعت سے وابستہ فیکٹریوں میں حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، گزشتہ فروری میں بھی صوبہ ہوبے میں ایک آتش بازی کی دکان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔