Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • عدالت کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

    عدالت کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستیں قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے جیل حکام کو دونوں کی ملاقات کرانے کی ہدایت کر دی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف درخواستوں کا فیصلہ ہدایات کیساتھ نمٹا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نصرت بھٹو کیس، بیگم شمیم آفریدی کے فیصلوں کے مطابق درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالتی ہدایات پر عمل یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔

    عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل رولز کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔

    عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی فیملی ارکان کی جیل قوانین کے مطابق ملاقات کروائی جائے جبکہ ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کروائی جائے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کی جائیں،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی ہدایات پرعمل یقینی بنائیں۔

    واضح رہے کہ علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا-

  • بھارت کی پٹاخہ فیکٹری میں دھماکا، 11 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    بھارت کی پٹاخہ فیکٹری میں دھماکا، 11 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع کوشامبی میں پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں زوردار دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ18 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

    حکام کے مطابق دھماکا پیر کی سہ پہر ضلع کوشامبی کے گاؤں منوری میں تھانہ پیپری کی حدود میں واقع پٹاخہ فیکٹری میں ہوا،واقعے کے بعد 11 زخمیوں کو علاج کے لیے پریاگ راج کے ایس آر این اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئے، جبکہ 5 شدید زخمیوں کا علاج جاری ہے،تمام ہلاک شدگان فیکٹری کے قریبی علاقے کے رہائشی تھے، جبکہ واقعے میں 18 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکا اتنا شدید تھا کہ فیکٹری کے علاوہ قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا اور فیکٹری سے متصل 5 سے 6 مکانات بھی منہدم ہوگئے،دھماکے کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے،دھماکے کے نتیجے میں علاقے میں ہائی وولٹیج بجلی کا کھمبا اور بجلی کی تاریں بھی متاثر ہوئیں،بجلی کے محکمے کا عملہ متاثرہ تنصیب کی مرمت اور بجلی کی فراہمی بحال کرنے میں مصروف ہے۔

    دھماکے کی شدت کے باعث جائے وقوعہ کے قریب سے گزرنے والی دہلی-ہاوڑہ ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت تقریباً ایک گھنٹے کے لیے معطل کردی گئی،اجمیر-سیالدہ ایکسپریس کو منوری ریلوے اسٹیشن واپس بھیج دیا گیا، جبکہ دہلی سے وارانسی جانے والی وندے بھارت ایکسپریس کو جائے وقوعہ سے ایک اسٹیشن پہلے سید سرواں ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔

    ریسکیو کارروائیوں میں نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس، پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں ایک درجن سے زائد فائر ٹینڈرز اور تقریباً 2 درجن ایمبولینسز جائے وقوعہ پر موجود ہیں، جبکہ بھارتی فضائیہ کے 50 سے زائد اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں معاونت کر رہے ہیں،فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پا لیا ہے، تاہم ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے بھاری مشینری اور تقریباً 10 بلڈوزروں کی مدد سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔

    اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے فی خاندان 2 لاکھ بھارتی روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 50 ہزار بھارتی روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں قریباً ایک ڈالر فی بیرل اضافہ ہوگیا۔

    رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل کے سودے 1.05 ڈالر یا 1.2 فیصد اضافے کے بعد 91.54 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.27 ڈالر یا 1.5 فیصد بڑھ کر 87.03 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

    گزشتہ روز بھی برینٹ کی قیمت میں 2.7 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ برینٹ ایک موقع پر 25 اگست کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی نے 21 اگست کے بعد بلند ترین سطح دیکھی۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

  • ٹرمپ کی مقبولیت سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

    ٹرمپ کی مقبولیت سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ان کے سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے-

    رائٹرز اور اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہری وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں،یہ مسلسل تیسرا سروے ہے جس میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح 33 فیصد ریکارڈ کی گئی،موجودہ شرح ان کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دنوں میں حاصل ہونے والی 47 فیصد منظوری کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

    سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریپبلکن پارٹی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی،صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کو ریپبلکن امیدواروں کے لیے ممکنہ سیاسی بوجھ قرار دیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب ڈیموکریٹک ووٹرز انتخابات کے حوالے سے ریپبلکنز کے مقابلے میں زیادہ پرجوش دکھائی دیتے ہیں،سروے میں 46 فیصد ڈیموکریٹس نے کہا کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے بہت زیادہ پرجوش ہیں، جبکہ ریپبلکنز میں یہ شرح صرف 31 فیصد رہی۔

    آزاد ووٹرز میں بھی ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل ہے اگر کانگریس کے انتخابات آج ہوں تو 36 فیصد آزاد ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ صرف 22 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے معاشی اثرات ہیں سروے کے مطابق صرف 36 فیصد امریکی ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

    ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پہلے ہی مہنگائی سے پریشان امریکی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں روزمرہ اخراجات کے معاملے پر عوامی ناراضی اس سے بھی زیادہ واضح ہے، تقریباً 71 فیصد امریکی شہریوں نے کہا کہ وہ زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقہ کار سے ناخوش ہیں۔

    حیران کن طور پر ان میں تقریباً 40 فیصد ریپبلکن ووٹرز بھی شامل ہیں، معاشی پالیسی کے میدان میں بھی ڈیموکریٹس نے طویل عرصے بعد ریپبلکنز پر برتری حاصل کی ہے گزشتہ ایک ماہ سے سروے میں رجسٹرڈ ووٹرز مسلسل ڈیموکریٹک پارٹی کو معیشت کے حوالے سے بہتر خیالات رکھنے والی جماعت قرار دے رہے ہیں۔

    تقریباً ایک دہائی میں یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیموکریٹس نے اس معاملے پر ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑا ہے رائٹرزاور اِپسوس کا 4 روزہ سروے ملک بھر میں 1,167 بالغ امریکیوں سے کیا گیا، جس میں تقریباً 3 فیصد پوائنٹس کا ممکنہ فرق موجود ہے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو مہنگائی، جنگ اور عوامی اعتماد کی بحالی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • قومی ترقی کے دشمن کون؟،تجزیہ:  شہزاد قریشی

    قومی ترقی کے دشمن کون؟،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی ترقی کے دشمن کون؟

    قومی منصوبوں کا قتلِ عام کب تک؟

    سیاست کی قیمت قوم کب تک چکاتی رہے گی؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ملک وسائل سے محروم ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب بھی قومی مفاد کا کوئی دروازہ کھلتا ہے، سیاست کی تنگ نظری اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے بعض سیاسی حلقوں نے اختلافِ رائے کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں قومی مفاد، جماعتی مفاد کے سامنے بے حیثیت دکھائی دیتا ہے۔

    دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ریاستیں اپنی معیشت، دفاع، سفارت کاری اور انتظامی ڈھانچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کر رہی ہیں، جبکہ ہم آج بھی انہی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ کالا باغ ڈیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جو پانی، بجلی اور زراعت کے شعبوں میں انقلاب لا سکتا تھا، اسے سیاسی نعروں، علاقائی تعصبات اور اقتدار کی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ آج جب قوم لوڈشیڈنگ، آبی قلت اور زرعی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟

    حیرت کی بات یہ ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے بعض سیاسی قوتیں آج بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام جیسے معاملات پر وہی پرانی سیاست دہرا رہی ہیں۔ عوام کو حقائق بتانے کے بجائے جذباتی نعروں کے ذریعے خوف اور بداعتمادی پیدا کی جا رہی ہے۔ حالانکہ دنیا کا ہر کامیاب ملک انتظامی اصلاحات کو ریاستی استحکام اور عوامی سہولت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑے علاقوں کو بہتر نظم و نسق کے لیے نئے انتظامی ڈھانچوں میں تقسیم کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ جدید ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

    سوال یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے مفاد کی کوئی بات ہوتی ہے تو مخالفت کی یہ آگ کیوں بھڑک اٹھتی ہے؟ آخر کیوں قومی ترقی کے منصوبے سیاسی انا کی نذر ہو جاتے ہیں؟ کیوں ہر وہ اقدام جو عوام کی زندگی آسان بنا سکتا ہے، اسے سیاسی معرکہ بنا دیا جاتا ہے؟ قوم ان سوالات کے جواب چاہتی ہے۔
    دوسری جانب پاکستان نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت اور وقار میں اضافہ کیا ہے۔ علاقائی تعاون، سفارتی روابط اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہونے والی پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں داخلی انتشار، بے بنیاد پروپیگنڈا اور قومی معاملات پر سیاست دراصل پاکستان کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    وقت آ گیا ہے کہ قوم جذباتی نعروں اور سیاسی شور سے آگے بڑھے۔ پاکستان کو ایسی قیادت، ایسی سوچ اور ایسی سیاست درکار ہے جو آنے والی نسلوں کے مفاد کو مقدم سمجھے۔ جو منصوبوں کو ووٹ کی عینک سے نہیں بلکہ قومی ضرورت کی نظر سے دیکھے۔ جو عوام کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرےتاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو قوموں کی تعمیر کرتے ہیں، اور وہ بھی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں جو ذاتی مفادات کی خاطر قومی مواقع کو ضائع کر دیتے ہیں۔ فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ترقی کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں یا ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہنا چاہتے ہیں۔

  • مسجد پر حملے میں مبینہ معاونت کا الزام: 17 سالہ امریکی لڑکی پر قتل کی فردِ جرم عائد

    مسجد پر حملے میں مبینہ معاونت کا الزام: 17 سالہ امریکی لڑکی پر قتل کی فردِ جرم عائد

    امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایک گرینڈ جیوری نے 17 سالہ لڑکی سارہ لنڈسے سینتیاگو پر کیلیفورنیا کی ایک مسجد میں ہونے والے مہلک حملے میں مبینہ معاونت کے الزام میں قتل کی فردِ جرم عائد کردی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق فورسائتھ کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی جم او’نیل نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکام نے لڑکی کے خلاف شمالی کیرولائنا میں ریا ستی سطح پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ وہاں 17 سال کی عمر میں بھی کسی نوجوان پر بالغ فرد کی حیثیت سے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، جرم ثابت ہو نے کی صورت میں اسے پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    حکام کے مطابق سینتیاگو کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا، پیر کو جاری ہونے والی فردِ جرم میں اس پر قتل کی تین دفعات اور مجرمانہ سازش کی ایک دفعہ عائد کی گئی ہے،رائٹرز کو تاحال سینتیاگو کے کسی وکیل کی شناخت نہیں ہوسکی جو اس معاملے پر اس کی جانب سے موقف پیش کرسکے۔

    18 مئی کو سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر میں ہونے والے حملے میں3 افراد ہلاک ہوئے تھے، حکام کے مطابق اس وقت مسجد سے منسلک اسکول میں تقر یباً 140 بچے موجود تھے، حملہ آوروں نے مسجد میں موجود افراد پر فائرنگ کی تھی اور اس حملے میں مسجد کے سکیورٹی گارڈ 51 سالہ امین عبداللہ، 78 سالہ نگرا ن منصور کزیحہ اور 57 سالہ نادر عواد ہلاک ہوئے۔ نادر عواد اسلامک سینٹر سے وابستہ ایک ٹیچر کے شوہر تھے۔

    تینوں مقتولین کو اس بات پر ہیرو قرار دیا گیا کہ ان کی کارروائیوں نے حملہ آوروں کو مزید لوگوں کو نقصان پہنچانے سے روکنے میں مدد دی ان کے لیے منعقدہ تعزیتی تقریب میں بھی ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا حملے میں مبینہ طور پر ملوث 18 سالہ کالیب وازکیز اور 17 سالہ کین کلارک فائرنگ کے بعد فرار ہوتے ہوئے اپنی گاڑی میں ہلاک ہوگئے تھے، دونوں کے ارادوں میں ایک یہودی عبادت گاہ اور زیادہ تر افریقی نژاد امریکی طلبہ والے ایک ہائی اسکول کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔

    ڈسٹرکٹ اٹارنی او’نیل کے دفتر کے مطابق حملے سے پہلے سینتیاگو نے مبینہ طور پر اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ حملے کی لائیو ویڈیو نشر کرے گی، اسے عوام تک پہنچائے گی اور بعد میں حملہ آوروں کی جانب سے تیار کیا گیا منشور جاری کرے گی حکام کا کہنا ہے کہ اس منشور کا مقصد حملے کے لیے جواز پیش کرنا تھا، شمالی کیرولائنا کے قانون کے تحت کوئی شخص کسی جرم میں مدد یا معاونت کا مرتکب قرار پا سکتا ہے اگر اس کا مجرم کے ساتھ وہی مجرمانہ ارادہ ہو اور وہ جرم کے دوران مدد فراہم کرنے یا نقصان روکنے میں اپنا کردار ادا نہ کرے، چاہے وہ خود جائے وقوعہ پر موجود نہ ہو۔

    ڈسٹرکٹ اٹارنی نے حملہ آوروں اور ان سے منسلک افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہیں ایک ایسی خفیہ آن لائن ذیلی ثقافت کا حصہ قرار دیا جو لوگوں کو شدید نفرت اور تشدد کی طرف مائل کرتی ہے ان کے مطابق تفتیش کاروں کو حملہ آوروں کے منشور میں مختلف نسلی، سیاسی اور مذہبی گروہوں کے خلاف شدید نفرت کے شواہد ملے ہیں۔

    تحقیقات کے دوران حکام کو معلوم ہوا کہ حملے کی لائیو ویڈیو تین افراد نے دیکھی تھی ابتدائی طور پر تفتیش کار صرف اتنا جانتے تھے کہ ان میں سے ایک خاتون مشرقی امریکی ٹائم زون میں موجود تھی، تاہم بعد میں اس خاتون کی شناخت سینتیاگو کے طور پر کرلی گئی او’نیل نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ لائیو ویڈیو دیکھنے والے دیگر دو افراد کی شناخت بھی ہوئی ہے یا نہیں، اور آیا ان کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    شمالی کیرولائنا میں مقدمہ چلائے جانے کی صورت میں سینتیاگو کو وفاقی مقدمے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت سزا کا سامنا ہوسکتا ہے حکام کے مطابق وفاقی سطح پر عائد کیے جانے والے ممکنہ الزامات میں سزا تقریباً تین سے چار سال ہوسکتی تھی جبکہ ریاستی قانون کے تحت جرم ثابت ہونے پر پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا ممکن ہے۔ تاہم حتمی سزا کا انحصار مقدمے کی کارروائی، شواہد اور عدالت کے فیصلے پر ہوگا۔

  • اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات

    اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور چین کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور چین کے درمیان ہر آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی تعاون کی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ملاقات میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 2026 کے اجلاس سمیت مختلف اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں ہونے والے جنرل اسمبلی اجلاس سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر اقوام متحدہ کے آئندہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے جاری عمل پر بھی بات چیت کی گئی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔

  • امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں،ترجمان ایرانی مسلح افواج

    امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں،ترجمان ایرانی مسلح افواج

    ایرانی مسلح افواج کے سینیئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایک ہزار اسرائیلی اہلکار ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں افغانستان اور عراق جنگ کے دوران بھی امریکا نے ہلاکتوں کی مکمل تعداد فوری طور پر ظاہر نہیں کی تھی، امریکا نے بعض ہلاک فوجیوں کی باقیات بھی بعد میں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیں۔

    انہوں نے امریکی فوج کو ’’ہالی ووڈ اور پروپیگنڈا فوج‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ مسلم ممالک کے وسائل کو لوٹ کا مال سمجھتی ہے حالیہ جنگ نے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ امریکی فوج اور اسرائیلی حکومت کی طاقت کے حوالے سے بنائی گئی شبیہ حقیقت سے مختلف ہے جن ممالک نے اپنی سرز مین پر امریکی فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، انہیں بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ امریکا ان کا تحفظ نہیں کرسکتا ’’جو امریکا اپنا تحفظ نہیں کرسکتا، وہ دوسروں کا تحفظ کیسے کرے گا، آیت اللہ علی خامنہ ای اور میناب اسکول کے طلبہ کی ہلاکت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔

  • امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے استعفیٰ دے دیا

    امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے استعفیٰ دے دیا

    امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے امریکی صدر کی انتظامیہ اور محکمہ دفاع میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے بتایا کہ ڈرِسکول نے اپنا استعفیٰ وائٹ ہاؤس کو بھیج دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے استعفیٰ منظور کیا ہے یا نہیں، ڈین ڈرِسکول کو فروری 2025 میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین سویلین عہدوں میں سے ایک، سیکر یٹری آف دی آرمی، مقرر کیا گیا تھا وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

    ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ان کے اختلافات کئی ماہ سے بڑھ رہے تھےرائٹرز کے مطابق ڈرِسکول ہیگسیتھ کے دور میں پینٹاگون سے الگ ہونے والے یا عہدوں سے ہٹائے جانے والے کئی اعلیٰ حکام میں تازہ ترین نام ہیں۔

    معاملے سے واقف ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈرِسکول نے امریکی انتظامیہ کے سامنے فوج میں تبدیلیوں اور جنگی تیاری سے متعلق خدشات اٹھائے تھے، ر پورٹ کے مطابق ڈرِسکول کا مؤقف تھا کہ فوج کو جدید بنانے کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں، خاص طور پر ان جرنیلوں کو برطرف کیے جانے کے با عث جو ان کوششوں کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔

    امریکی محکمہ فوج نے ڈرِسکول کے استعفے کی خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا یہ خبر سب سے پہلے وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کی تھی،تاہم وائٹ ہاؤس نے ڈین ڈرِسکول کے کام کی تعریف کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ایک بیان میں کہا کہ سیکریٹری ڈرِسکول نے محکمہ فوج میں صدر ٹر مپ کے ’امریکا کو دوبارہ مضبوط بنانے‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیاڈرِسکول نے تاریخی فوجی کارروائیوں کے دوران بہترین قیادت فراہم کی، فوج کی جنگی تیاری اور مؤثر کارروائی پر دوبارہ توجہ مرکوز کی اور روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں بھی مدد کی۔

    امریکی فوج کے نائب انڈر سیکریٹری ڈیو فٹزجیرالڈ کے بھی استعفیٰ دینے کی توقع ہے فٹزجیرالڈ امریکی فوج میں جدت اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق امور پر کام کر رہے تھے، انہوں نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

    ڈین ڈرِسکول اور پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ امریکی فوج کو جدید بنانے کا معاملہ بھی بتایا جاتا ہے ڈرِسکول نے فوج پر زور دیا تھا کہ وہ کم قیمت اور جدید ہتھیار زیادہ تیزی سے حاصل کرے انہوں نے بڑی دفاعی کمپنیوں پر بھی سخت تنقید کی تھی ڈرِسکول نے گزشتہ برس بڑی دفاعی کمپنیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دفاعی صنعت نے مجموعی طور پر، اور خاص طور پر بڑی کمپنیاں، امریکی عوام، پینٹاگون اور فوج کو دھوکا دیا۔

    ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہیگسیتھ ڈرِسکول کو محکمہ دفاع کے اندر اپنے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھتے تھے اور طویل عرصے سے انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے تاہم عہدیدار کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ڈرِسکول کے قریبی تعلقات کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل تھا۔

    ڈین ڈرِسکول نے اس دوران پینٹاگون سے باہر بھی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ماسکو اور کیف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شامل کیا تھا رائٹرز کے مطابق کسی امریکی آرمی سیکریٹری کے لیے اس نوعیت کا سفارتی کردار غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔

    اپریل میں پیٹ ہیگسیتھ نے امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ میں مصروف تھا،امریکی عہدیدار کے مطابق جنرل رینڈی جارج کی برطرفی نے ڈرِسکول کو حیران کر دیا تھا اور اس واقعے کے بعد ان کے اور ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے۔

    ڈرِسکول نے اپریل میں امریکی قانون سازوں کو بتایا تھا کہ جنرل جارج کی برطرفی کے بعد ان کا خاندان سابق جنرل کے گھر گیا اور انہیں گلے لگایابعد ازاں جون میں ہیگسیتھ نے یورپ میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی اعلیٰ فوجی افسران کی ترقی بھی روک دی تھی۔

    ریپبلکن رکن کانگریس پیٹ ہیریگن نے ڈین ڈرِسکول کے ممکنہ استعفے پر ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈرِسکول نے ایسے ادارے میں فوری تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا جہاں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈین کی ملک کے لیے خدمت ابھی ختم نہیں ہوئی۔

  • ٹرمپ کی حملوں کے جواب میں ایران کیخلاف سخت کارروائی کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد تہران کے خلاف مزید سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔‘۔

    یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا نے ایران کے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرے لارک پر حملہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی میں ایران کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے جزیرہ لارک پر ’’محدود اور انتہائی درست‘‘ کارروائی کی۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے راکٹ داغنے کی تیاری کررہے تھے، جسے امریکا نے جہاز رانی کے لیے ایک ’’فوری خطرہ‘‘ قرار دیا۔

    ایران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کا فوری جواب دیا ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اردن میں موجود دو ایسے فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکی فورسز موجود ہیں۔ٕ ایران نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں امریکی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

    تاہم امریکا نے ابھی تک ایرانی دعوے کے مطابق نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ اردن کے حکام نے کہا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میزائلوں کو کہاں سے داغا گیا تھا۔

    ایران نے متحدہ عرب امارات میں واقع المنہاد ایئر بیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جہاں امریکی اہلکار موجود ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ المنہاد ایئر بیس پر میزائل حملے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

    البتہ اماراتی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ اس کی فضائیہ نے ایران کی جانب سے آنے والے ایک ڈرون کو اپنی علاقائی سمندری حدود کے اوپر مار گرایا۔ متحدہ عرب امارات نے اس واقعے کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے اردن میں امریکی اہداف کے خلاف کارروائی کو ’’جائز دفاع‘‘ قرار دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے تازہ فوجی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے جوابی حملوں کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو سخت جواب دے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ خطرناک سطح تک پہنچنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    یہ تازہ کشیدگی کئی ہفتوں کے نسبتاً سکون کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی کررہا ہے۔

    آبنائے ہرمز کی صورتحال اس تنازع میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی اور تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ اس راستے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان تازہ حملوں کے بعد خطے میں موجود امریکی اڈوں، خلیجی ممالک کی فضائی حدود اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر بھی عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ اگر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب ایک رپورٹر نے ان سے سوال پوچھا کہ ”کیا آپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار کے استعمال کا آپشن رد کر دیا ہے؟“ تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ”وہ (ایران) فوجی طور پر مکمل طور پر شکست کھا چکے ہیں، میں نے انہیں شکست دے دی ہے اور اب میں ان پر ایٹمی ہتھیار استعمال کروں؟ یہ کتنا احمقانہ سوال ہے۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیےایران کی موجودہ صورتحال اور جنگ کے دائرہ کار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک ناکام ریاست قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ساڑھے تین سو فیصد مہنگائی ہے، ان کی کرنسی ختم ہو چکی ہے، وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں نہیں دے رہے، ان کے اکثر رہنما مارے جا چکے ہیں اور ان کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہے”اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انہیں مزید نقصان نہیں پہنچائیں گے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔“

    انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ ”ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوگا، کیونکہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتا تو اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا اور مشرقِ وسطیٰ میں کچھ نہ بچتا، لہٰذا تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔“

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ صورتحال انتہائی بہتر ہے ہماری بحریہ کی مدد سے گزشتہ رات متعدد جہاز وہاں سے گزرے ہیں اور ہم روزانہ اوسطاً تیس جہازوں کی آمد و رفت یقینی بنا رہے ہیں جس سے بڑی مقدار میں تیل باہر جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں اس حد تک نہیں بڑھیں جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا تہران پر بڑھتا ہوا دباؤ عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے اور خطے کی سلا متی کو برقرار رکھنے کا حصہ ہے۔