گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے گاؤں گھورس میں آنے والے اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں زرعی اراضی، کھڑی فصلیں، درخت اور متعدد مکانات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شدید بارشوں کے بعد آنے والے ریلے نے گاؤں کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے مقامی آبادی کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ سیلابی پانی نے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا جبکہ کئی پھلدار اور سایہ دار درخت بھی جڑ سے اکھڑ گئے۔
قدرتی آفت کے باعث متعدد خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں اور عارضی طور پر خیموں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں اور روزگار کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث انہیں خوراک، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے، متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، خیمے اور مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ معمول کی زندگی کی جانب واپس آ سکیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ ہنگامی امداد کے منتظر ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ متعلقہ حکام جلد از جلد نقصانات کا جائزہ لے کر بحالی کے اقدامات کریں گے۔ علاقے میں صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ مزید بارشوں کی صورت میں مقامی آبادی کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
گانچھے کے گاؤں گھورس میں اچانک سیلاب سے تباہی، متعدد خاندان بے گھر
