بھارت میں ہونے والے مبینہ امتحانی پرچہ لیک اسکینڈل کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ایک امیدوار کی شکایت نے ایسے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جس نے ملک کے اہم ترین مسابقتی امتحان کے سوالیہ پرچے مختلف ریاستوں میں فروخت کیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مبینہ اسکینڈل کا آغاز راجستھان کے دو افراد سے ہوا، جنہوں نے ناسک میں موجود ایک پرنٹنگ پریس سے امتحانی پرچہ حاصل کیا۔ بعد ازاں یہ پرچہ ہریانہ کے شہر گروگرام میں موجود ایک مبینہ رابطہ کار تک پہنچایا گیا، جہاں سے اسے راجستھان کے شہر سکر میں ایک کنسلٹنسی کمپنی کے حوالے کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس پورے نیٹ ورک میں ایک واٹس ایپ نمبر، جسے "KA400” کے نام سے شناخت کیا گیا، اہم کردار ادا کرتا رہا۔ الزام ہے کہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے مبینہ طور پر لیک ہونے والے سوالیہ پرچے مختلف ریاستوں میں فروخت کیے گئے۔ بعض خریداروں سے مبینہ طور پر 30 ہزار سے 5 لاکھ بھارتی روپے تک وصول کیے گئے، جبکہ ایک شخص کی جانب سے 28 لاکھ بھارتی روپے ادا کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق راجستھان سے لیک ہونے والا مبینہ پرچہ کیرالا تک پہنچا، جہاں اسے طلبہ کے درمیان فوٹو کاپیوں کی صورت میں تقسیم کیا گیا۔ امتحان کے انعقاد کے بعد بعض امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ بائیولوجی اور کیمسٹری کے متعدد سوالات پہلے سے گردش کرنے والے مبینہ لیک پرچے سے مماثلت رکھتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق کیرالا کے ایک امیدوار نے اس معاملے پر پہلے مقامی پولیس سے رجوع کیا، تاہم کارروائی نہ ہونے پر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو ای میل کے ذریعے شکایت درج کرائی۔ بعد ازاں یہ معاملہ متعلقہ تحقیقاتی اداروں تک پہنچا، جس کے بعد مختلف مقامات پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
یہ امتحان بھارت میں میڈیکل، انجینئرنگ، ایوی ایشن اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جس میں ہر سال لاکھوں امیدوار شرکت کرتے ہیں۔ اس مبینہ اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت، نگرانی اور سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بھارت کے بڑے امتحانی اسکینڈل کی اندرونی کہانی
