پاکستان میں حکومت نے یومیہ ایندھن قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 66 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش، زرعی سرگرمیوں اور دیگر شعبوں میں اخراجات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ بالخصوص مال بردار گاڑیوں، زرعی مشینری اور صنعتی شعبے کے لیے لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، درآمدی اخراجات اور بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ اضافے نے عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں پہلے ہی مہنگائی کے باعث شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو آئندہ دنوں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید رد و بدل کا امکان موجود ہے۔ دوسری جانب عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ریلیف اقدامات کیے جائیں تاکہ عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
حالیہ اضافے کے بعد شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کی نظریں آئندہ حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں ہر تبدیلی ملکی معیشت اور روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
