کراچی میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز نے والدین اور طبی ماہرین میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ولیکا اسپتال کے بعد اب سوشل سیکیورٹی اسپتال لانڈھی میں بھی چار ماہ سے آٹھ سال تک کی عمر کے 15 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد شہر میں اس بیماری کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ بچوں کی عمریں چار ماہ سے آٹھ سال کے درمیان ہیں اور ان کی تشخیص مختلف طبی معائنے کے دوران ہوئی۔ ان کیسز کے سامنے آنے کے بعد والدین نے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے علاج کے لیے درکار ادویات ان کی مالی استطاعت سے باہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری مدد فراہم کریں تاکہ بچوں کا علاج بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
متاثرہ خاندانوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے باعث اصل صورتحال سامنے نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق مزید بچوں میں بھی ایچ آئی وی کی موجودگی کا خدشہ ہے، اس لیے تمام ممکنہ متاثرہ مریضوں کی فوری اسکریننگ اور جامع تحقیقات کی جائیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے ایسے کیسز سامنے آنے کے بعد ضروری ہے کہ انفیکشن کے ممکنہ ذرائع کا تعین کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے طبی ریکارڈ، خون کی منتقلی، استعمال ہونے والے آلات اور دیگر طبی طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لینا ناگزیر ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
والدین نے حکومت سندھ، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ بچوں کو مفت علاج، ادویات اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
کراچی کے اسپتال میں مزید 15 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص، والدین میں تشویش
