امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران، روس اور چین سے تعلق رکھنے والے 130 تحقیقی اور تعلیمی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام حساس دفاعی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے غیر مجاز تبادلے کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل اداروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی سرگرمیاں امریکی قومی سلامتی اور حساس ٹیکنالوجی کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا باعث ہیں۔ اسی بنیاد پر ان اداروں کو امریکی قوانین کے تحت خصوصی نگرانی اور پابندیوں کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ان پابندیوں کا بنیادی مقصد دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور حساس معلومات کی غیر مجاز یا غیر مطلوبہ منتقلی کو روکنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے امریکی دفاعی مفادات اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق فہرست میں شامل اداروں کے ساتھ دفاعی تعاون، تحقیقاتی شراکت داری، فنڈنگ اور حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی پر امریکی قوانین کے مطابق مخصوص پابندیاں نافذ ہوں گی۔ ان اقدامات کے تحت امریکی اداروں اور کمپنیوں کو ان تنظیموں کے ساتھ بعض معاملات میں اضافی قانونی تقاضوں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین، روس اور ایران کے درمیان ٹیکنالوجی، سلامتی اور جغرافیائی سیاسی معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔ واشنگٹن مسلسل حساس ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، دفاعی تحقیق اور جدید سائنسی شعبوں میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کر رہا ہے۔
پینٹاگون کی ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقی و تعلیمی اداروں پر پابندیاں
