پاکستان میں شدید گرمی اور حبس کے دوران گیس بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) نے آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی کے باعث ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (RLNG) کی فراہمی میں رکاوٹ پر تین ہفتوں کے لیے فورس میجر نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایس این جی پی ایل نے پنجاب کے چار آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو ارسال کیے گئے خطوط میں آگاہ کیا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ خلیجی خطے میں جاری جنگی صورتحال کے باعث قطر انرجی اپنے معاہدوں کے مطابق ایل این جی کارگو فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ اس وجہ سے کمپنی اپنی سپلائی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے گی۔
حکام کے مطابق اس صورتحال کے باعث پنجاب میں پانچ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے والے آر ایل این جی پاور پلانٹس متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ سندھ سے ملک کے بالائی علاقوں کو بجلی کی ترسیل بھی محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے سے درآمد شدہ ایل این جی کارگو کے ذریعے وقتی طور پر قلت کو کم کرنے کی کوشش کرے گی، تاہم ضرورت پوری کرنے کے لیے مہنگے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنا پڑ سکتی ہے، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
ایس این جی پی ایل کے مطابق قطر انرجی نے جولائی 14 سے 3 اگست تک شیڈول تمام متاثرہ کارگو کی ترسیل روکنے سے آگاہ کیا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا ہے کہ موجودہ معاہدے کے تحت باقی سال کی سپلائی شیڈول بھی ازسرنو ترتیب دی جائے گی، کیونکہ خطے میں سلامتی کی صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔
کمپنی نے واضح کیا کہ فورس میجر کی شق کے تحت وہ اس عرصے میں اپنی معاہداتی ذمہ داریوں سے قانونی طور پر مستثنیٰ ہوگی۔ ایس این جی پی ایل کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اسٹیٹ آئل کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ سپلائی میں رکاوٹ کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوگی بلکہ ملک میں بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں اور صارفین کو گیس کی فراہمی بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کشیدگی، ایس این جی پی ایل نے آر ایل این جی فراہمی پر فورس میجر نافذ کر دیا
