روچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی مجرم شبیر احمد کو پاکستان واپس بھیجنے کی برطانوی کوششوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر برطانیہ شبیر احمد کی بے دخلی چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے ان مطالبات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا جن کا تعلق برطانیہ میں مقیم پاکستانی سیاسی مطلوب افراد اور حکومت مخالف شخصیات سے ہے۔
رپورٹ میں ایک سینئر پاکستانی سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد اب صرف یکطرفہ مطالبات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات برابری کی بنیاد پر طے ہونے چاہییں۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو پاکستان کے اہم قومی اور قانونی تحفظات کا بھی اسی طرح احترام کرنا ہوگا جس طرح وہ اپنے مفادات کا کرتا ہے۔73 سالہ شبیر احمد روچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی ملزمان میں شمار ہوتا ہے۔ اسے بچوں سے جنسی زیادتی کے 30 جرائم میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم وہ 14 سال قید کاٹنے کے بعد گزشتہ ہفتے جیل سے رہا ہو گیا۔اگرچہ اس کی برطانوی شہریت ختم کی جا چکی ہے، لیکن برطانیہ کے امیگریشن ایکٹ 1971 کی بعض شقیں اس کی فوری بے دخلی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ قانون کے مطابق ایسے دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے شہری جو 1973 سے قبل برطانیہ آئے اور کم از کم پانچ سال وہاں مقیم رہے، انہیں خصوصی قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ شبیر احمد سمیت روچڈیل گرومنگ گینگ کے دو دیگر مرکزی مجرم پاکستانی شہریت ترک کر چکے ہیں، اس لیے وہ اب پاکستان کے شہری نہیں رہے۔ اسی بنیاد پر اسلام آباد نے انہیں واپس لینے سے انکار کیا ہے۔
تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ پاکستان کے بعض اہم مطالبات پر مثبت پیش رفت کرے تو اسلام آباد معمول کے قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر بھی کسی قابل قبول حل پر غور کر سکتا ہے۔
پاکستان کے مطالبات کیا ہیں؟
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے برطانیہ کے سامنے کئی ایسے افراد کا معاملہ اٹھایا ہے جو لندن میں مقیم ہیں اور اسلام آباد کے مطابق پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر اور سزا یافتہ سابق فوجی افسر عادل راجا شامل ہیں، جن کی حوالگی کے لیے پاکستان پہلے ہی باضابطہ درخواستیں دے چکا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے جعلی خبریں پھیلائیں اور ریاست مخالف پروپیگنڈا کیا۔اس کے علاوہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی حوالگی کا معاملہ بھی برطانوی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے، جو گزشتہ تین دہائیوں سے لندن میں مقیم ہیں۔
پاکستانی عہدیدار کے مطابق برطانیہ پاکستان سے تو مطلوب افراد کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن جب پاکستان اپنی مطلوب شخصیات کی حوالگی کی بات کرتا ہے تو انسانی حقوق، آزادی اظہار اور برطانوی قوانین کا حوالہ دیا جاتا ہے۔عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے برطانوی حکومت کو ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض افراد برطانوی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں نفرت، تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دیتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق شبیر احمد کی رہائی سے قبل تقریباً ایک سال سے دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر پس پردہ مذاکرات جاری تھے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پر صرف برطانیہ کے مفاد میں شرائط قبول کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قانونی مؤقف کا احترام کرنا ہوگا۔پاکستانی عہدیدار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ برطانیہ نے نجی اور عوامی سطح پر پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ اگر اسلام آباد نے شبیر احمد کو واپس لینے سے انکار جاری رکھا تو پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں یا ترقیاتی امداد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پاکستان کسی قسم کے دباؤ، دھونس یا بلیک میلنگ کی پالیسی کو قبول نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جس شخص نے اپنی زندگی کے ساٹھ سال سے زیادہ برطانیہ میں گزاری ہو، اسے اچانک پاکستان کا شہری قرار دے کر واپس بھیجنے کی کوشش نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جو پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود اس قانونی رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے امیگریشن ایکٹ 1971 میں ترمیم پر غور کر رہی ہیں تاکہ شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق وزیر انصاف شبانہ محمود پیر کے روز اس حوالے سے اہم اعلان کر سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت امیگریشن ایکٹ 1971 میں موجود ایک قانونی خلا کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں پیدا ہونے والے 73 سالہ شبیر احمد کو برطانیہ سے بے دخل نہیں کیا جا سکا، حالانکہ ان کی برطانوی شہریت پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے۔
موجودہ قانون کے تحت ایسے افراد جو 1973 سے پہلے برطانیہ آئے ہوں اور کم از کم پانچ سال وہاں مقیم رہے ہوں، انہیں بعض حالات میں ملک بدر کرنے سے استثنا حاصل ہوتا ہے۔ اسی شق کی وجہ سے شبیر احمد کو پاکستان واپس بھیجنے میں قانونی رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی ترمیم اس انداز میں تیار کی جا رہی ہے کہ اس کا اثر دیگر دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے شہریوں، خصوصاً ونڈرش نسل کے افراد کے مستقل رہائشی حقوق پر نہ پڑے۔
شبیر احمد کو روچڈیل گرومنگ گینگ کا سرغنہ قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں بچوں کے ساتھ 30 ریپ کے جرائم سمیت متعدد سنگین جنسی جرائم میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔وہ گزشتہ ہفتے 14 سال قید کاٹنے کے بعد رہا ہوئے ہیں۔اگرچہ ان کی برطانوی شہریت ختم کی جا چکی ہے، لیکن موجودہ قوانین اور پاکستان کی جانب سے انہیں قبول نہ کرنے کے باعث وہ تاحال برطانیہ میں موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے شبیر احمد اور روچڈیل گینگ کے دو دیگر مجرموں کو واپس لینے سے انکار کیا ہے۔پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان افراد نے کئی دہائیاں قبل اپنی پاکستانی شہریت ترک کر دی تھی، اس لیے وہ اب پاکستان کے شہری نہیں رہے۔تاہم برطانوی حکومت اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتی۔ اس کا کہنا ہے کہ شبیر احمد نے پاکستانی شہریت ترک کرنے کا قانونی عمل مکمل نہیں کیا تھا، اس لیے وہ اب بھی پاکستان کے شہری تصور کیے جا سکتے ہیں۔
برطانیہ اور پاکستان کے درمیان مذاکرات
ذرائع کے مطابق اگرچہ برطانوی حکومت داخلی قانونی رکاوٹ دور کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے، لیکن اصل فیصلہ اب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات پر منحصر ہوگا۔ایک حکومتی ذریعے نے بتایا "ہمیں یقین ہے کہ برطانوی قانون میں موجود مسئلے کا حل نکال لیا گیا ہے، تاہم اب یہ برطانیہ کے دفتر خارجہ اور پاکستان کے درمیان مذاکرات پر منحصر ہے کہ آیا شبیر احمد کو پاکستان بھیجا جا سکے گا یا نہیں۔”
برطانیہ میں موجودہ قانون کے مطابق ایک سال یا اس سے زیادہ سزا پانے والے غیر ملکی مجرموں کو عام طور پر ملک بدر کیا جا سکتا ہے، تاہم ایسا اسی صورت ممکن ہوتا ہے جب متعلقہ ملک انہیں واپس لینے پر آمادہ ہو۔
گر پاکستان شبیر احمد کو قبول نہ کرے تو صرف برطانوی قانون میں تبدیلی ان کی ملک بدری کے لیے کافی نہیں ہوگی۔مزید یہ کہ شبیر احمد یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 8 (خاندانی زندگی کے حق) کے تحت بھی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں، اگرچہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے جرائم کی سنگینی ایسے دعوے کو کمزور بنا سکتی ہے۔
