غزہ میں جاری جنگ کے باعث صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے اور اب خون کے بینکوں اور طبی لیبارٹریوں کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ ضروری طبی سامان کی شدید قلت کے باعث تشخیصی خدمات تقریباً معطل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس سے زخمیوں اور مریضوں کے علاج میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔
وزارت صحت کی عہدیدار سحر غانم کے مطابق لیبارٹریوں میں استعمال ہونے والے ضروری طبی مواد کی قلت 87 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خون کے ٹیسٹ اور دیگر تشخیصی معائنے کرنے کے لیے درکار بنیادی اشیا میں 74 فیصد کمی آ چکی ہے۔ اس صورتحال نے اسپتالوں اور طبی مراکز کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جدید پرزوں اور دیکھ بھال کی سہولت نہ ہونے کے باعث پرانی لیبارٹری مشینیں بار بار خراب ہو رہی ہیں، جس سے مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ طبی عملہ محدود وسائل کے ساتھ خدمات جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ سلسلہ زیادہ دیر برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
سحر غانم نے عالمی برادری، امدادی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری طبی سامان، خون محفوظ رکھنے کے آلات اور لیبارٹری کے لیے درکار مواد فوری طور پر فراہم نہ کیا گیا تو غزہ میں طبی خدمات مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خون کے بینکوں کی بندش کے نتیجے میں زخمیوں، سرجری کے مریضوں، بچوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ایسے حالات میں اسپتالوں کے لیے ہنگامی طبی خدمات جاری رکھنا بھی انتہائی دشوار ہو جائے گا۔
غزہ میں صحت کا شعبہ کئی ماہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مسلسل حملوں، ادویات اور طبی سامان کی قلت، بجلی کی فراہمی میں رکاوٹوں اور طبی مراکز کو پہنچنے والے نقصان نے علاج معالجے کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وزارت صحت نے ایک بار پھر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مریضوں کی جانیں بچائی جا سکیں اور صحت کی بنیادی سہولیات کو مکمل طور پر بند ہونے سے روکا جا سکے۔
غزہ میں خون کے بینک اور لیبارٹریاں بند ہونے کے دہانے پر
