برلن: جرمنی کے سابق کپتان اور ورلڈ کپ فاتح لیجنڈری فٹبالر فلپ لاہم نے فیفا پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عالمی فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ اب کھیل کے بجائے تجارتی مفادات کا شکار ہو چکا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں جاری ہے۔ اسی دوران فلپ لاہم نے اپنے ایک اخباری کالم میں فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو اور عالمی فٹبال تنظیم کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ "ورلڈ کپ فروخت کر دیا گیا ہے” کیونکہ اب شائقین اور کھلاڑیوں کے مفادات پر منافع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
فلپ لاہم نے میچوں کے ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ٹورنامنٹ کے مسلسل پھیلاؤ اور کھیل میں بڑھتے ہوئے تجارتی رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے کی دوڑ فٹبال کی اصل روح کو نقصان پہنچا رہی ہے اور شائقین میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق ماضی میں محدود ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ اب 48 ٹیموں تک پہنچ چکا ہے، جس سے کھلاڑیوں پر غیر ضروری جسمانی اور ذہنی دباؤ بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مصروف شیڈول اور طویل سفری مصروفیات کے باعث فٹبالرز شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ مزید میچز ان کی فٹنس اور کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
سابق جرمن کپتان نے خبردار کیا کہ اگر کھیل سے زیادہ مالی مفادات کو ترجیح دی جاتی رہی تو اس کے طویل المدتی اثرات عالمی فٹبال پر مرتب ہوں گے۔ تاہم انہوں نے رواں ورلڈ کپ میں ابھرنے والے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کا ٹیلنٹ اس کھیل کے روشن مستقبل کی امید ہے۔
فلپ لاہم کا فیفا پر ورلڈ کپ کو ‘فروخت’ کرنے کا الزام
