جنیوا: اقوام متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے واقعات اسرائیلی کارروائیوں کے ایک تشویشناک پہلو کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ طرزِ عمل فلسطینی عوام کو تباہ کرنے کے ارادے کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔
منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے اور نفسیاتی صدمات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کمیشن کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی فلسطینی بچے ہلاکتوں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ سرینواسن مرلی دھر نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بچوں کو حاصل تحفظ کے باوجود غزہ میں ان کی جانوں کو خطرات لاحق رہے اور جنگ بندی کے بعد بھی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچوں کو مسلسل نشانہ بنانا ان عوامل میں شامل ہے جن کی بنیاد پر کمیشن اسرائیلی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ کمیشن نے گزشتہ برس بھی اپنی ایک رپورٹ میں غزہ میں نسل کشی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو "پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے بھی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے حماس کے حملوں، یرغمالیوں کے معاملے اور شہری علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی جیسے عوامل کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف الزامات سیاسی مقاصد کے تحت لگائے جا رہے ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی صورتحال اور شہری ہلاکتوں کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث اور تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔
غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانا نسل کشی کے ارادے کی علامت قرار: اقوام متحدہ کی رپورٹ
