اسلام آباد: وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے عراق جانے والے پاکستانی زائرین اور زیارت گروپ آرگنائزرز کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے عراقی حکومت کی نئی ویزا شرائط پر سختی سے عمل درآمد کی تاکید کی ہے۔
وزارت کے مطابق عراقی حکام نے زیارت ویزا کے غلط استعمال، غیر قانونی قیام اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے نئے ضوابط نافذ کیے ہیں۔ ان ہدایات کے تحت فیملی ویزا پر اکیلے سفر کرنے والے افراد کو عراق میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نئی شرائط کے مطابق 50 سال سے کم عمر ایسے مرد زائرین جو تنہا سفر کر رہے ہوں، انہیں بھی عراق میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔ مزید برآں اگر کسی زائر کا ویزا مسترد ہو جائے یا اسے عراق میں داخلے کی اجازت نہ ملے تو ادا کی گئی ویزا فیس واپس نہیں کی جائے گی۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ عاشورہ اور اربعین کے لیے ایک ہی ویزا استعمال نہیں کیا جا سکتا اور ہر مذہبی سفر کے لیے الگ ویزا درکار ہوگا۔ عراقی ویزا صرف 30 روز کے لیے مؤثر ہوگا جبکہ مقررہ مدت سے زائد قیام کی صورت میں جرمانہ، ملک بدری اور مستقبل میں عراق میں داخلے پر مستقل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق عراق پہنچنے پر پاکستانی زائرین کے پاسپورٹ عراقی امیگریشن حکام کی تحویل میں رہیں گے اور واپسی کے وقت انہیں واپس کیے جائیں گے۔
وزارت مذہبی امور نے تمام زائرین اور ٹور آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر سے قبل نئی شرائط سے مکمل آگاہی حاصل کریں اور کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچنے کے لیے عراقی قوانین کی مکمل پابندی کریں۔
عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں
