پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس کے مطابق بجٹ میں 48 ارب روپے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، نعرے بازی کی اور بجٹ کو مسترد کرنے کے مطالبات کیے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس بجٹ میں وفاقی حکومت کے لیے کسی قسم کی گرانٹ مختص نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں تمام صوبوں سے اضافی فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ بانی پاکستان تحریک انصاف سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اکنامک کونسل کے اجلاس سے قبل دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنے سربراہان سے ملاقات کی اجازت دی گئی، مگر خیبرپختونخوا حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث اہم فیصلے مؤخر کرنا پڑے۔
بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے مسلسل احتجاج کیا، حکومت مخالف نعرے لگائے اور ایوان میں شور شرابا کیا۔ اپوزیشن ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور "بجٹ نامنظور” کے نعرے لگاتے رہے، جس کے باعث کئی مرتبہ کارروائی متاثر ہوئی۔
اس کے باوجود وزیراعلیٰ نے اپنی بجٹ تقریر جاری رکھی اور حکومت کے مالی منصوبے، اخراجات اور آئندہ مالی سال کی ترجیحات سے متعلق ایوان کو آگاہ کیا۔
خیبرپختونخوا کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب صوبے کو مالی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور وفاق کے ساتھ مالی معاملات سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
خیبرپختونخوا کا 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش، اسمبلی میں اپوزیشن کا شدید احتجاج
