لندن: صنعتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد جمعہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جاتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی سے خلیجی ممالک کا وہ خام تیل بھی عالمی منڈی تک پہنچ سکے گا جو حالیہ کشیدگی کے باعث ٹینکروں میں رکا ہوا تھا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی سپلائی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
توانائی تجزیاتی ادارے کپلر (Kpler) کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے سے تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ بیرل غیر ایرانی خام تیل عالمی منڈی میں آ سکتا ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر خلیج میں رکا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اگر امریکا ایرانی خام تیل پر عائد پابندیوں میں مزید نرمی کرتا ہے تو ایران کا تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل بھی عالمی منڈی میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے سپلائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل کے قریب جہاز سے جہاز منتقلی (Ship-to-Ship Transfers) کے ذریعے برآمدات جاری رکھیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی اسپاٹ قیمتوں پر پہلے ہی دباؤ دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی ریفائنریوں نے جون سے اگست تک کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل کی خریداری پہلے ہی مکمل کر لی ہے، جبکہ ریفائننگ مارجن میں کمزوری کے باعث مستقبل میں نئی خریداری کی رفتار نسبتاً محدود رہ سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے اور ایران سے متعلق پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان
