امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت تہران کو صرف محدود سطح پر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ سرگرمی مکمل طور پر پرامن مقاصد تک محدود ہوگی اور اسے کسی صورت فوجی استعمال کے لیے بروئے کار نہیں لایا جا سکے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے معاہدے کی بعض اہم تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کو انتہائی محدود پیمانے پر یورینیئم افزودگی کی اجازت ہوگی۔ ان کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن نوعیت کا رہے اور اسے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا یورینیئم افزودگی کی مجوزہ حد سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد سطح کے برابر ہوگی یا نہیں، تو انہوں نے کوئی مخصوص شرح بتانے سے گریز کیا۔ البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران صرف سویلین اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیئم افزودہ کر سکے گا۔
صدر ٹرمپ نے معاہدے کے مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کا مقصد جنگ کے امکانات کو کم کرنا اور سفارتی حل کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب معاہدے کے اعلان سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو مؤثر طور پر محدود کر دیا جائے گا اور انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو ختم کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ تفصیلات یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
معاہدے پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کئی ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ بعض حلقوں میں معاہدے کی شرائط اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایران کو محدود یورینیئم افزودگی کی اجازت ہوگی، ٹرمپ
