برطانیہ میں وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر سے منسلک گاڑی اور جائیدادوں پر آتشزدگی کے حملوں کے مقدمے میں دو افراد کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ لندن کی اولڈ بیلی عدالت نے یوکرینی شہری 22 سالہ رومن لاورینووچ اور رومانیہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ اسٹینسلاف کارپیوک کو حملوں کی سازش اور املاک کو نقصان پہنچانے کا قصوروار قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ملزمان نے ایک روسی زبان بولنے والے ٹیلیگرام رابطے "ایل منی” کی ہدایات پر حملے کیے۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق حملوں کی مکمل منصوبہ بندی اور ہدایات اسی پراسرار شخص کی جانب سے دی گئی تھیں، جس نے مبینہ طور پر کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کا وعدہ بھی کیا تھا۔
مقدمے کے مطابق مئی 2025 میں شمالی لندن کے علاقے کینٹش ٹاؤن میں ایک ٹویوٹا راو فور گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی، جو ماضی میں وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی ملکیت رہی تھی۔ اس کے بعد ایک ایسے فلیٹ کے دروازے پر بھی آگ لگائی گئی جہاں وزیراعظم پہلے رہائش پذیر رہ چکے تھے، جبکہ ان کے حلقہ انتخاب میں واقع ایک اور گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ حملوں کے وقت وزیراعظم کی قریبی رشتہ دار جوڈتھ الیگزینڈر اس گھر میں مقیم تھیں۔ انہوں نے بیان دیا کہ دھماکوں جیسی آوازیں سن کر ان کی آنکھ کھلی اور انہوں نے گھر میں دھواں پھیلتے دیکھا، جبکہ اس وقت ان کا خاندان گھر کے اندر موجود تھا۔
رومن لاورینووچ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے "ایل منی” نامی شخص کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور اسے حملوں کی ویڈیو بنانے اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ دوسری جانب اسٹینسلاف کارپیوک نے دعویٰ کیا کہ حملوں کے وقت وہ لندن کے ایک پب میں موجود تھا۔
پولیس نے حملوں کے ایک ہفتے کے اندر دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔ انسداد دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا کہ تاحال ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ "ایل منی” کسی ریاستی ادارے سے منسلک تھا، تاہم حملوں کا مقصد برطانیہ میں خوف، بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔
برطانوی وزیراعظم سے منسلک املاک پر حملہ، دو افراد قصوروار
