Baaghi TV


ٹرمپ کی اپیل پر ایران اور اسرائیل نے حملے روک دیے

israel

‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کے بعد ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے خلاف حملے روکنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں عارضی کمی آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ دوبارہ جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
‎ایران اور اسرائیل کے درمیان اپریل کے بعد یہ سب سے براہِ راست اور شدید تصادم تھا، جس نے خطے کو ایک وسیع جنگ کے خطرے سے دوچار کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشیدگی نے واشنگٹن کی ان سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کیا جو ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
‎رپورٹس کے مطابق حملوں کے تبادلے کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم جب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے خلاف اس کی پہلی مرحلے کی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں تو عالمی منڈیوں میں صورتحال نسبتاً مستحکم ہو گئی اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
‎مالیاتی منڈیوں میں بھی اس پیش رفت کے اثرات سامنے آئے، جہاں امریکی ڈالر تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔ سرمایہ کاروں نے جنگی خطرات میں کمی کے بعد نسبتاً محفوظ ماحول کا اظہار کیا۔
‎ذرائع کے مطابق اسرائیل نے بھی ایران کے خلاف مزید حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے مکمل جنگ بندی کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم موجودہ صورتحال کو کشیدگی میں کمی کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
‎سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف عارضی حملہ بندی کافی نہیں ہوگی بلکہ ایران، اسرائیل، امریکا اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان سنجیدہ سفارتی مذاکرات ناگزیر ہیں۔ آئندہ چند روز خطے کی صورتحال اور ممکنہ سیاسی پیش رفت کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔

More posts