اسرائیلی حکومت نے غزہ میں انسانی صورتحال کے پیش نظر آج رفح اور کرم ابوسالم (کرم شالوم) کراسنگ جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں سرحدی گزرگاہوں کو محدود پیمانے پر عوامی نقل و حرکت اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے فعال کیا جائے گا۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے لوگوں کی محدود آمد و رفت کے لیے کھولا جائے گا، جبکہ کرم ابوسالم کراسنگ کے ذریعے غزہ میں انسانی امدادی سامان مرحلہ وار داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کے باعث انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے کئی ہفتوں سے سرحدی راستے کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ متاثرہ آبادی تک امداد پہنچائی جا سکے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق کراسنگز کی بحالی محدود اور نگرانی شدہ طریقہ کار کے تحت ہوگی، جبکہ سیکیورٹی اقدامات کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔ امدادی سامان کی ترسیل کے عمل کا مرحلہ وار جائزہ لیا جائے گا تاکہ صورتحال کے مطابق مزید فیصلے کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے مارچ میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد غزہ کی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں انسانی امداد کی فراہمی شدید متاثر ہوئی تھی۔ اس دوران عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں امدادی رسائی بحال کرنے پر زور دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رفح اور کرم ابوسالم کراسنگ کی دوبارہ جزوی بحالی سے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں کچھ بہتری آ سکتی ہے، تاہم علاقے میں پائیدار استحکام اور مکمل امدادی رسائی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
اسرائیل کا رفح اور کرم ابوسالم کراسنگ کھولنے کا اعلان
