جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں ایک ریچھ الیکٹرانکس فیکٹری میں داخل ہو گیا اور حملہ کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا۔ واقعے کے بعد ریچھ کئی گھنٹوں تک فیکٹری کے اندر موجود رہا اور حکام کی تمام کوششوں کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریچھ اچانک فیکٹری میں داخل ہوا اور وہاں موجود ملازمین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ واقعے کے بعد فیکٹری میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ریچھ فیکٹری کے اندر ہی چھپا رہا۔ امدادی اور جنگلی حیات کے ماہرین نے اسے پکڑنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تاہم وہ ہر کوشش سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ رات کے وقت ریچھ نے کھڑکی کی کنڈی کھول کر فیکٹری سے فرار ہونے کا راستہ بنایا اور موقع سے نکل گیا۔
رپورٹس کے مطابق ریچھ نے فیکٹری کے اندر موجود پانی کے نل کو اپنے پنجوں سے کھول کر پانی بھی پیا، جس نے حکام اور ماہرین کو حیران کر دیا۔ اس غیر معمولی رویے کے باعث جانور کی ذہانت پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ریچھ کو قابو کرنے کے لیے حکام نے پہلے بے ہوش کرنے والے انجیکشن گن کا استعمال کیا، لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ بعد ازاں اسے شہد اور اس کے پسندیدہ پھلوں کی مدد سے پھانسنے کی کوشش بھی کی گئی، مگر یہ تدبیر بھی کامیاب نہ ہو سکی۔
فوکوشیما کے میئر نے ریچھ کے فرار پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے "انتہائی ذہین” قرار دیا اور کہا کہ جانور نے غیر معمولی چالاکی کا مظاہرہ کیا۔ حکام اب بھی علاقے میں ریچھ کی تلاش میں مصروف ہیں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ جاپان میں حالیہ برسوں کے دوران ریچھوں کے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران ریچھوں کے حملوں میں کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کے بعد جنگلی حیات اور انسانی آبادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگلات کے سکڑنے اور خوراک کی تلاش میں جنگلی جانوروں کے شہری علاقوں کا رخ کرنے کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
جاپان میں ریچھ کا فیکٹری پر حملہ، 4 افراد زخمی
