Baaghi TV


فلائی جناح زم زم جدہ میں چھوڑ آئی، حجاج پریشان

plane

‎حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آنے والے متعدد حجاج کرام کو اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب معلوم ہوا کہ فلائی جناح کی پرواز 9P701 ان کے لیے لایا گیا آبِ زم زم جدہ میں ہی چھوڑ آئی ہے۔ مسافروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف انتظامی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ حجاج کے لیے روحانی اہمیت رکھنے والی امانت کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
‎ذرائع کے مطابق پرواز کے ذریعے اسلام آباد پہنچنے والے حجاج کرام سامان وصول کرنے کے لیے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک بیگیج بیلٹ پر انتظار کرتے رہے۔ تاہم اس دوران انہیں زم زم کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں ایئرلائن کے ایک نمائندے نے بتایا کہ زم زم حاصل کرنے کے لیے اگلے روز دوبارہ ایئرپورٹ آنا ہوگا۔
‎مسافروں کا کہنا ہے کہ جب وہ اگلے دن ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ آبِ زم زم اسلام آباد پہنچا ہی نہیں بلکہ جدہ ایئرپورٹ پر رہ گیا ہے۔ اس اطلاع کے بعد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے حجاج مزید پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔
‎متاثرہ مسافروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر زم زم کی عدم ترسیل ایئرلائن کی غلطی تھی تو اضافی سفری اخراجات اور وقت کے ضیاع کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ دور دراز علاقوں سے دوبارہ ایئرپورٹ آنا ان کے لیے مالی اور جسمانی طور پر مشکل ہے۔
‎حجاج کرام کا کہنا ہے کہ آبِ زم زم ان کے لیے صرف ایک بیگ یا سامان کا حصہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت اور روحانی تحفہ ہے، جسے وہ اپنے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور دوستوں تک پہنچانے کی نیت سے ساتھ لاتے ہیں۔ اس لیے اس کی ترسیل میں غفلت کو معمولی انتظامی غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
‎متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایئرلائن اس معاملے کی مکمل وضاحت کرے اور زم زم کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنائے۔ ساتھ ہی ایسے حجاج جنہیں دوبارہ ایئرپورٹ آنے پر مجبور کیا گیا، ان کے اضافی سفری اخراجات کے ازالے پر بھی غور کیا جائے۔
‎مسافروں کا کہنا ہے کہ حج کے بعد وطن واپسی کے سفر کو خوشگوار اور آسان بنانا ایئرلائنز کی ذمہ داری ہے، تاکہ حجاج کرام کو غیر ضروری مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

More posts