پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے رکن عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں تنظیم کے اندرونی معاملات اور سرگرمیوں سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔ اس نے نوجوانوں کو بھی انتباہ کیا ہے کہ وہ ایسے گروہوں کے پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔
عمر دین عرف جذبہ کے مطابق اس نے اپنے والد کے ساتھ اختلافات اور گھریلو تنازع کے بعد تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ جذباتی فیصلوں اور غلط رہنمائی کے باعث وہ اس راستے پر چلا گیا، جس پر بعد میں اسے شدید پچھتاوا ہوا۔
گرفتار رکن نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے کئی بڑے کمانڈروں کے ساتھ درجنوں افغان جنگجو موجود ہیں اور متعدد افراد نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے۔ اس کے مطابق مختلف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تربیتی سرگرمیوں میں بیرونی عناصر بھی شامل رہے ہیں۔
عمر دین نے مزید دعویٰ کیا کہ مذکورہ نیٹ ورک شادی خیل بیس پر حملے اور کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ملوث تھا، جس میں ماہ رمضان کے دوران سات پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ اس نے کہا کہ تنظیم مختلف دہشت گرد کارروائیوں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
اعترافی بیان میں اس نے الزام عائد کیا کہ تنظیم کے بعض ارکان منشیات کے استعمال میں ملوث ہیں اور مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس کے مطابق بعض کمانڈرز اپنے دعوؤں اور عملی رویوں میں تضاد رکھتے ہیں۔
گرفتار شخص نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تنظیم کو افغانستان میں موجود بعض کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے مطابق بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے، اغوا برائے تاوان اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں تنظیم کی آمدنی کے ذرائع میں شامل ہیں۔
عمر دین کا کہنا تھا کہ تنظیم نوجوانوں کو شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر متاثر کرتی ہے اور مختلف طریقوں سے انہیں اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے دعوؤں اور گمراہ کن بیانیوں سے محتاط رہیں اور اپنی زندگی کو مثبت سرگرمیوں اور تعلیم کے لیے وقف کریں۔
گرفتار خارجی کے اہم انکشافات، نوجوانوں کو خبردار کر دیا
