خیبرپختونخوا حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ سرپلس نہیں ہوگا بلکہ متوازن بجٹ پیش کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ کے مطابق صوبے کو مالی وسائل اور وفاقی محاصل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح سرپلس بجٹ دینا ممکن نہیں رہا۔
محکمہ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے انعقاد میں تاخیر اور مالی تقسیم کے معاملات واضح نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت کو بجٹ سازی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے مالی سال 2026-27 کے لیے متوازن بجٹ تیار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 2300 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی اعداد و شمار وفاقی حکومت کی جانب سے مالیاتی تخمینوں اور محصولات کی تقسیم کے اعلان کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق صوبے کی مالی ضروریات کا 90 فیصد سے زائد حصہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے حاصل ہونے والی رقم پر منحصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی بجٹ اور محصولات کی تقسیم کے خدوخال واضح نہ ہونے تک صوبائی بجٹ کی حتمی تیاری ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے تاحال اپنے بجٹ کی مکمل تفصیلات اور مالیاتی فریم ورک واضح نہیں کیا، جس کے باعث صوبائی حکومت کو آمدنی اور اخراجات کے درست تخمینے لگانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبے بھی وفاقی محاصل پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں، اس لیے این ایف سی ایوارڈ اور وفاقی مالی پالیسیوں میں تاخیر صوبائی ترقیاتی منصوبوں اور مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی خدمات کے لیے وسائل مختص کیے جائیں گے۔ بجٹ میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کے شعبوں کو ترجیح دیے جانے کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت آئندہ چند روز میں بجٹ کی مزید تفصیلات سامنے لائے گی، جس کے بعد ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اخراجات اور محصولات کے حوالے سے مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔
خیبرپختونخوا کا بجٹ سرپلس نہیں، متوازن بجٹ پیش ہوگا
