آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے نائب صدر سفیان علی فاروقی کی تصنیف "روشنی کے وارث” کی تقریبِ رونمائی مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کی، جبکہ اپووا کے وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، بانی صدر ایم ایم علی، کیپٹن (ر) خالد شاہین بٹ، حافظ محمد زاہد، ڈاکٹر فضیلت بانو، قرۃ العین خالد، رقیہ غزل، ناصر بشیر، کنول بہزاد، ریاض احمد احسان، رانا محمد اعظم خان، حافظ باسط ایڈووکیٹ، صاحبزادہ ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی، صاحبزادہ حذیفہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ، چوہدری غلام غوث، محمد اسامہ قاسم اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
تقریب میں مقررین نے کتاب "روشنی کے وارث” اور اس کے مصنف سفیان علی فاروقی کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب نوجوان نسل کو اپنے ماضی، تہذیب، تاریخ اور قومی شناخت سے جوڑنے کی ایک مؤثر کاوش ہے۔ تقریب میں باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور بیورو چیف قصور طارق نوید سندھو بھی شریک ہوئے۔صدرِ تقریب مجیب الرحمن شامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "روشنی کے وارث” مختصر مگر جامع کتاب ہے، جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ماضی علم، تحقیق اور سائنس کے میدان میں قابلِ فخر رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر حال اور مستقبل کو بہتر بنائیں۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنی قومی زبان اردو سے دور ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ اردو سے رشتہ کمزور ہونا اپنے ماضی اور قومی شناخت سے دوری کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس آج بھی اردو زبان کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ہماری جامعات عالمی درجہ بندی میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انگریزی ضرور سیکھیں، مگر اردو کو اپنی بنیادی قومی زبان کے طور پر اپنائے رکھیں، کیونکہ اردو کے بغیر پاکستانیت کا تصور ادھورا ہو جائے گا۔
مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ سفیان علی فاروقی نے مختصر انداز میں ایک بڑے موضوع کو سمو کر واقعی "کوزے میں دریا بند کر دیا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہر نوجوان کو ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ وہ اپنے ماضی پر اعتماد بحال کرتے ہوئے مستقبل کی بہتر تعمیر کر سکے۔ انہوں نے اہلِ قلم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ قلم سے اپنا رشتہ مضبوط رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اپووا کے وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سفیان علی فاروقی تنظیم کا روشن ستارہ ہیں، جو علم و ادب کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "روشنی کے وارث” صرف ایک کتاب نہیں بلکہ شعور، دعوتِ فکر اور مثبت پیغام کا مجموعہ ہے۔ اس میں جغرافیہ، تاریخ سمیت مختلف پہلوؤں کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے اظہارِ امید کیا کہ سفیان علی فاروقی اسی طرح علم و آگہی کی روشنی پھیلاتے رہیں گے۔روشنی کے وارث کی تقریب رونمائی کے اختتامی مراحل میں ڈاکٹر مفتی رشید احمد العلوی نے دعا کروائی،تقریب کے اختتام پر معروف شاعرہ اور کالم نگار رقیہ غزل کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا، جبکہ شرکاء نے سفیان علی فاروقی کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی علمی خدمات کو سراہا،قبل ازیں شرکا کے اعزاز میں پرتکلف ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا.
